متحدہ عرب امارات

متحدہ عرب امارات : رقم کی ادائیگی کے حوالے سے انقلابی ٹرینڈ ، اب کرنسی کا استعمال ہورہا ہے ختم

خلیج اردو
16 مارچ 2021
دبئی :کرونا وائرس کی وجہ سے جب گھروں سے کام کا آغاز ہوا تو ایسا لگ رہا تھا کہ یہ بالکل عارضی ہے اور وباء کے چند مہینوں میں خاتمے کے بعد معمول کے مطابق دفاتر میں سرگرمیوں کا آغاز ہوگا۔ تاہم کرونا واباء کے دورانیے میں طولت کے بعد اب ایسا لگ رہا ہے کہ گھروں سے کام کرنے اور کچھ سرگرمیوں کیلئے دفتر آنا پڑے گا۔

یہ حقیقت ہے کہ بہت سے اداروں میں شاید ممکن ہو کہ تمام کام گھروں سے بیٹھ کر کیا جائے لیکن ایسا تمام صورتوں میں ممکن نہیں ہوتا ، بعض کمپنیوں میں مختلف سروسز اور پراڈکٹ کی خریدوفروخت اور پیداور سے لے کر سپلائی تک ایسے مراحل ہیں جس میں افرادی قوت کو دفاتر یا کام کرنے والی جگہوں پر موجود رہنا ضروری ہوتا ہے۔ ایسے میں ایک نیا نظام متحدہ عرب امارات اور خطے میں پروان چڑھ رہا ہے جسے مخلوط نظام کہا جاسکتا ہے ۔

اس سسٹم کے تحت وہ کام جو آپ گھروں سے کر سکتے ہیں ان کیلئے افرادی قوت کو اجازت دی جاتی ہے کہ وہ دفاتر نہ آئیں اور اپنی رہائش گاہوں سے کام کریں جبکہ وہ افراد جن کا دفتر آنا ضروری ہو وہ دفتر آئیں ۔ اس طرھ جہاں ایک طرف دفتار میں کم رش کی وجہ سے کرونا وائرس کا انسداد ممکن ہے وہاں دوسری طرف دفاتر کی جگہ یا بلڈنگز کے حجم اور دیگر اخراجات میں کمی بھی ممکن ہوئی ہے۔

اندازے کے مطابق وبائی بیماری کرونا کے بعد ہفتے کے کچھ حصے میں گھر سے کام کرنا شامل ہوگا – ہفتے میں ایک سے تین دن تک ایک ہائبرڈ ماڈل یا مخلوط ماڈل سامنے آنے کا امکان ہے اس نظام سے گھروں میں کام کرنے اور کچھ مقاصد کیلئے دفاتر کا چکر لگانے سے لے کر مختلف آپریشنل کاموں کی وجہ سے ملازمین کے آپسمیں رابطوں سے ان کی سماجی اور ذہنی نشمونما بھی ہوتی رہے گی اور انلائن کام کرنے سے جو فوائد ہیں وہ بھی کمپنیون اور ملازمین کو ملتے رہیں گے۔

نوتنیکس میں گلوبل انٹرپرائز مارکیٹنگ کے سینئر ڈائریکٹر قابیل شاہ نے اس پر اتفاق ہے کہ کرونا وائرس نے گھروں سے کام کرنے کی شرح میں اضافہ کر دیا ہے جو ماڈل اگرچہ پہلے سے موجود تھا۔ اب نئی نسل کام میں نرمی چاہتی ہے اور 58 فیصد پرانے اور نئی نسل کی جانب سے کام کے نئے ماڈلز کو پسند کیا جارہا ہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ ہمارے پاس کام کرنے کا ایک مختلف ماحول ہو۔

کرونا وباء انسان کیلئے سب سے بڑا طرز عمل تبدیل کرنے کا تجربہ لایا ہے۔ اس سے کاروبار اور مختلف کمپنیون کے طرز عمل میں تبدیلی آئی ہے اور اس حوالے سے جہاں پہلے گھروں سے کام کرنے کی اجازت سخت تھی اب ایسا نہیں ہے اور کمپنیون نے اپنے ماڈلز میں تبدیلی شروع کر دی ہے۔

کمپنیوں کے بوسز اپنے لوگوں کو ملازمتوں کی اونرشپ لینے اور انہیں اپنا کام مکمل کرنے کی اجازت دے رہے ہیں کہ وہ کس طرح بہتر سمجھتے ہیں اور کیسے بہتر کارکردگی دیکھاتے ہیں وہ ویسا کریں۔ کسی دفتر کے اندر ضرورت سے زیادہ قریبی انتظام معاون ثابت ہوسکتا ہے۔ دور سے یہ ممکن بھی نہیں ہوسکتا ہے۔ اب بااختیار بنانے کا وقت آگیا ہے اور بااختیار بننے سے زیادہ اطمینان ، پیداوری اور تناؤ میں کمی واقع ہوتی ہے۔

سیفٹی ایک اور پہلو ہے جس کو گھر گھر کام کرنے کے دوران سراہا گیا ہے۔ دبئی انویسٹمنٹ کے چیف انفارمیشن آفیسر (سی آئی او) وینکٹیش مہادیوان نے کہا ہے کہ گھر کے اندر یا ان علاقوں میں رہنا جس سے ہم سکون میں ہیں اور یوں ہم شاید وائرس کے پھیلاؤ سے گریز کر رہے ہیں۔ بہت سے لوگ اپنے گھر والوں کے ساتھ ہونے پر محفوظ محسوس کرتے ہیں۔

کاروباری شعبوں کیلئے خود کو بہتر بنانے کا اب ایک اچھا وقت ہے۔ ڈیماک گروپ کے سی آئی او جئےش مگن لال نے ہے کہ یہ تبدیلی ہے اور یہ پہلے سے ہی ہو رہا ہے جہاں تنظیمیں دفتر کی جگہ پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں اور وہ ملازمین کو لچکدار اور آسان ماحول دینا چاہتے ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ گھروں سے کام کرکے اگر وہ خود کو بہتر محسوس کرتے ہیں تو اسی میں ہی ان کو اجازت دی جائے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button