
خلیج اردو
دبئی: امیگریشن ماہرین کے مطابق امریکا کی جانب سے ایچ-1بی ویزا کی نئی درخواستوں کے لیے ایک لاکھ ڈالر فیس مقرر کرنے کے بعد متحدہ عرب امارات کے طویل المدتی رہائشی پروگرامز، جن میں گولڈن ویزا، فری لانس ویزا اور ریموٹ ورک ویزا شامل ہیں، کی طلب میں اضافہ متوقع ہے۔
دبئی میں قائم ایڈوائزری فرم جے ایس بی کے بانی اور مینیجنگ ڈائریکٹر گورو کشوانی نے بتایا کہ امریکی مارکیٹ سے اماراتی گولڈن ویزا کے بارے میں سوالات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ ان کے مطابق امریکا میں بڑھتی ہوئی ویزا فیس امارات کے سرمایہ کاری اور طویل مدتی رہائشی آپشنز کی طرف دلچسپی بڑھانے کا سبب بن سکتی ہے، خاص طور پر ایچ-1بی اور گرین کارڈ ہولڈرز کے لیے۔
ان کا کہنا تھا کہ امریکی کارکن یا تو امارات میں ایک سادہ کمپنی قائم کر کے امریکی ادارے کے ساتھ معاہدہ کریں گے یا پھر فری لانس ویزا حاصل کریں گے، جس سے طلب میں اضافہ ہوگا۔ انہوں نے مزید کہا کہ امارات غیر مقیم بھارتیوں کے لیے پرکشش ماحول فراہم کرتا ہے، جو امریکی طرز زندگی اور مالیاتی نظام سے ملتا جلتا ہے، جبکہ ڈالر اور درہم کی یکساں قدر فارن ایکسچینج کے مسائل کو بھی کم کرتی ہے۔
کشوانی کے مطابق ان کی کمپنی کو امریکا سے تعلق رکھنے والے خاص طور پر بھارتی صارفین کی جانب سے بڑھتی ہوئی تعداد میں استفسارات موصول ہو رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ماضی میں امریکا سے ہر 100 سوالات میں سے تقریباً 15 سے 16 درخواستوں پر عمل ہوتا تھا، لیکن اب یہ تعداد بڑھ کر 35 تک پہنچ گئی ہے۔
امیگریشن فرم فریگومن کے پارٹنر شیان سلطان نے کہا کہ امریکا میں ایچ-1بی ویزا کی بھاری فیس عالمی سطح پر توجہ کا باعث بنی ہے، تاہم امارات اب بھی ہنرمند پروفیشنلز اور سرمایہ کاروں کے لیے ایک پرکشش مرکز ہے۔ ان کے مطابق امارات کے طویل المدتی ویزا پروگرامز، جائیداد سے منسلک ویزے اور ریموٹ ورک آپشنز ایسے افراد کے لیے موزوں ہیں جو کیریئر کے ساتھ اعلیٰ معیارِ زندگی چاہتے ہیں۔
کلئیر ٹرپ عربیہ کے سی ایف او سمیر باگُل نے واضح کیا کہ امریکا میں ویزا کی بھاری فیس خاص طور پر نئی درخواستوں پر لاگو ہوتی ہے، جس سے بھارتی آئی ٹی سروس کمپنیوں اور درمیانے درجے کے پروفیشنلز کے لیے امریکی مواقع کم پرکشش ہو جائیں گے۔ ان کے مطابق امارات میں گولڈن ویزا ہنرمند پروفیشنلز، سائنسدانوں، سرمایہ کاروں اور کاروباری شخصیات کو دیا جاتا ہے اور اس کے لیے بھاری سرمایہ کاری یا کسی ایک آجر پر انحصار ضروری نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ امارات میں اسٹارٹ اپس اور ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن کے منصوبے نئے روزگار کے مواقع پیدا کر رہے ہیں، خاص طور پر اے آئی اسپیشلسٹس، ڈویلپرز اور سائبر سیکیورٹی ماہرین کے لیے، جس سے دبئی اور ابوظہبی تیزی سے علاقائی اختراعی مرکز بن رہے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ امریکا سے آنے والے تمام ہنرمند پروفیشنلز لازمی طور پر امارات کا رخ نہیں کریں گے، تاہم بڑھتی ہوئی امریکی پابندیوں اور بھاری اخراجات کے مقابلے میں امارات کے لچکدار ویزا آپشنز اور محفوظ و خوشحال ماحول زیادہ سے زیادہ عالمی ٹیلنٹ کو اپنی طرف متوجہ کر رہے ہیں۔







