متحدہ عرب امارات

ابوظہبی: نجی اسکولوں کو والدین سے سالانہ معاہدہ کرنا ہوگا

خلیج اردو
ابوظبہی:
: ابوظہبی کے تمام نجی اسکولوں کو آئندہ تعلیمی سال 2025-2026 کے آغاز سے قبل والدین کے ساتھ باقاعدہ سالانہ معاہدہ کرنا لازم قرار دے دیا گیا ہے۔ محکمہ تعلیم و علم (Adek) کے مطابق، بچے کے داخلے یا دوبارہ داخلے سے قبل یہ معاہدہ مکمل کرنا ہوگا، جس میں والدین اسکول کی تمام پالیسیوں کو قبول کرنے کے پابند ہوں گے۔

محکمہ کا کہنا ہے کہ اس پالیسی کا مقصد والدین کو بچے کی تعلیم میں فعال اور ذمہ دار شراکت دار بنانا ہے، تاکہ گھریلو تعاون اور اسکول کمیونٹی کے ساتھ کھلی اور مؤثر شراکت داری قائم ہو۔

تمام اسکولوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اس پالیسی پر مکمل عمل درآمد کریں، ورنہ قانونی کارروائی اور جرمانے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

والدین کے لیے ضابطہ اخلاق
نئے ضابطے کے تحت والدین سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ اسکول کی اقدار، مشن اور وژن کی حمایت کریں، عملے، دیگر والدین اور طلبہ سے مہذب اور پیشہ ورانہ رویہ اختیار کریں، اور کسی بھی شکایت یا مسئلے کو احترام کے ساتھ حل کریں۔ سوشل میڈیا پر تہذیب سے گری یا ثقافتی طور پر نامناسب باتوں سے گریز بھی ضروری ہے۔

والدین کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ اپنے بچوں کی حاضری، وقت کی پابندی، تعلیمی دیانتداری، اور ضرورت پڑنے پر اضافی مدد میں تعاون کو یقینی بنائیں۔ ان سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ والدین-اساتذہ ملاقاتوں میں شرکت کریں اور باقاعدگی سے اپنے بچے کی کارکردگی پر نظر رکھیں۔

اگر کسی والد یا سرپرست نے اسکول کے ضابطے کی خلاف ورزی کی تو اسکول کو اختیار ہوگا کہ وہ انہیں احاطے سے نکال دے یا داخلے سے روک دے۔

بچے کی تعلیم میں والدین کی شمولیت
Adek کی ہدایت کے مطابق اسکولوں کو والدین سے براہ راست اور آسان رابطہ کے لیے مؤثر ذرائع اختیار کرنے ہوں گے۔ والدین اپنے بچے کے استاد یا معاون عملے سے براہ راست رابطہ کر سکیں گے، جبکہ تعلیمی یا اخلاقی مسائل کی صورت میں انہیں بروقت مطلع کیا جائے گا۔ ہر سہ ماہی میں والدین کو کارکردگی رپورٹس دیجٹل طریقے سے دی جائیں گی اور اساتذہ سے ملاقات کے مواقع فراہم کیے جائیں گے۔

گھر پر تعلیمی مدد دینے کی بھی حوصلہ افزائی کی جائے گی تاکہ بچے اور والدین کے درمیان مثبت تعلیمی ربط قائم ہو۔

طلبہ کی فلاح و بہبود میں والدین کا کردار
اسکولوں کو والدین سے بچوں کی فلاح و بہبود کے حوالے سے رائے لینی ہوگی۔ انہیں ہدایت دی جائے گی کہ وہ بچوں کے لیے صحت مند کھانے اور سادہ عادات اپنائیں۔ اسکول غذائی پالیسی سے متعلق والدین کو بھی باخبر رکھیں گے۔

اس کے ساتھ ساتھ ذہنی صحت سے متعلق اسکول کی پالیسی سے والدین کو آگاہ کرنا بھی ضروری ہوگا، جس میں مشاورت کی ضرورت، رازداری، اور والدین کی رضامندی کی وضاحت شامل ہوگی۔

والدین کو نصابی اور ڈیجیٹل سرگرمیوں میں بچوں کی شرکت کی حوصلہ افزائی کرنی ہوگی، اور انہیں اسکول بیگ کے وزن سے متعلق ضوابط سے بھی آگاہ کیا جائے گا۔

والدین سے رابطہ اور مطلع کرنے کی پالیسی
محکمہ تعلیم نے واضح کیا ہے کہ اسکولوں کو نیوز لیٹرز، فون کالز، ٹیکسٹ میسجز، ای میلز، خطوط، آن لائن پلیٹ فارمز، اور میٹنگز کے ذریعے والدین سے باقاعدہ رابطہ رکھنا ہوگا۔

فیسوں کی ادائیگی کے لیے شفاف اور بروقت طریقہ کار لازمی ہوگا، جبکہ کسی تیسرے فریق سے طلبہ کی معلومات شیئر کرنے سے قبل والدین کی اجازت لینا لازم ہے۔

اسکولوں کو بچوں کی حفاظت سے متعلق ذمہ داریوں پر والدین کو مطلع کرنا ہوگا، اور کسی مشکوک صورت حال میں مجاز حکام کو رپورٹ کرنا ان کی قانونی ذمہ داری ہے۔

والدین کو ٹرانسپورٹ پالیسی، اسکول بس یا ذاتی گاڑی سے لانے اور لے جانے کے طریقہ کار، مجاز افراد، اور پارکنگ سے متعلق معلومات فراہم کی جائیں گی۔

ہنگامی حالات میں فوری اطلاع دینے کے لیے اسکولوں کو اجتماعی اطلاعاتی نظام قائم رکھنا ہوگا، اور والدین سے تمام تحریری رابطے کا ریکارڈ محفوظ رکھنا لازم ہوگا۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button