
خلیج اردو
ایئربس نے 29 نومبر 2025 کو فوری طور پر ایئرلائنز کو الرٹ آپریٹرز ٹرانسمیشن جاری کرتے ہوئے دنیا بھر میں A320 فیملی کے تقریباً چھ ہزار طیاروں میں ہنگامی سافٹ ویئر اپ ڈیٹس یا ہارڈویئر پروٹیکشن لازمی قرار دی ہے۔ یہ تعداد عالمی بیڑے کے نصف سے زائد کے برابر ہے۔ یہ فیصلہ تحقیقاتی رپورٹ کے بعد سامنے آیا جس میں 30 اکتوبر کو جیٹ بلو کے A320 طیارے کے اچانک نیچے گرنے کے واقعے کی وجہ شدید شمسی تابکاری کو قرار دیا گیا، جس نے الیویٹر ایلیرون کمپیوٹر میں اہم فلائٹ کنٹرول ڈیٹا کو خراب کر دیا تھا۔
ایئربس کے مطابق یہ خرابی طیارے میں بغیر حکم کے پچ یا رول جیسی حرکات پیدا کر سکتی ہے، جو مسافروں اور طیارے دونوں کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہیں۔ اسی تناظر میں یورپی ایوی ایشن سیفٹی ایجنسی نے بھی ہنگامی ایئر ورتھینس ڈائریکٹو جاری کر دیا جو 30 نومبر سے نافذ العمل ہے۔ کمپنی نے اعتراف کیا ہے کہ اس اپ ڈیٹ سے چھٹیاں گزارنے والے مسافروں کے لیے پروازوں میں رکاوٹیں پیدا ہوئیں، تاہم حفاظت اولین ترجیح ہے۔
تحقیقات کے مطابق جیٹ بلو کی پرواز جو میکسیکو سے امریکہ جا رہی تھی، شدید شمسی تابکاری کے باعث فلائٹ کنٹرول ڈیٹا خراب ہونے سے اچانک اونچائی کھو بیٹھی، جس کے بعد ایئربس نے عالمی سطح پر بیڑے کی درستی کا فیصلہ کیا۔
دنیا بھر میں مختلف ایئرلائنز کے تقریباً چھ ہزار فعال A320 طیاروں میں اپ ڈیٹ درکار ہے، جن میں انڈگو، ایئر انڈیا، امریکن ایئرلائنز، جیٹ اسٹار، وز ایئر سمیت متعدد یورپی، امریکی اور ایشیائی کیریئرز شامل ہیں۔ کئی ایئرلائنز نے تصدیق کی ہے کہ بیشتر طیاروں کے سافٹ ویئر اپ ڈیٹ تقریباً مکمل ہو چکے ہیں۔
زیادہ تر طیاروں میں سافٹ ویئر اپ ڈیٹ دو سے تین گھنٹے میں مکمل ہو جاتی ہے، تاہم تقریباً ایک ہزار طیاروں میں ہارڈویئر تبدیلی درکار ہے جس میں کئی ہفتے لگ سکتے ہیں۔ اس صورتحال کے باعث دنیا بھر میں ہزاروں پروازیں منسوخ یا تاخیر کا شکار ہوئیں اور لاکھوں مسافر متاثر ہوئے۔
ماہرین کے مطابق سورج کے شدید شعلوں اور کرونل ماس انجیکشنز سے پیدا ہونے والے ذرات بلند پرواز کرنے والے طیاروں پر براہ راست اثر انداز ہوتے ہیں، کیونکہ تیس ہزار فٹ کی بلندی پر زمین کی فضا شعاعوں کو روکنے کی قدرتی صلاحیت کھو دیتی ہے۔ یہی سبب تحقیق میں سامنے آیا کہ A320 کے مخصوص ELAC سسٹم میں ڈیٹا کرپشن کا خدشہ بڑھ جاتا ہے۔
ایئربس کا کہنا ہے کہ تمام آپریٹرز کے ساتھ مکمل تعاون جاری ہے اور حفاظتی اپ گریڈز کی بروقت تکمیل کو یقینی بنایا جائے گا۔







