
خلیج اردو
متحدہ عرب امارات کا نام آتے ہی عموماً بلند و بالا عمارتیں اور جدید شہروں کا تصور ذہن میں آتا ہے، مگر العین اس تاثر سے بالکل مختلف ہے۔ سرسبز و شاداب مناظر، قدرتی چشمے، نخلستان اور صدیوں پر محیط ثقافت اس شہر کو ایک منفرد شناخت دیتے ہیں، جو شہری ہنگاموں سے دور ایک پُرسکون سیاحتی تجربہ فراہم کرتا ہے۔
جبل حفیط العین کے نمایاں ترین قدرتی مقامات میں شمار ہوتا ہے۔ 1249 میٹر بلند یہ پہاڑ نہ صرف شاندار نظاروں کے لیے مشہور ہے بلکہ موسم سرما میں ہائیکنگ اور کیمپنگ کا پسندیدہ مقام بھی ہے۔ یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثے میں شامل جبل حفیط کے مقبروں میں پانچ ہزار سال پرانے پانچ سو سے زائد قدیم مقبرے موجود ہیں، جو متحدہ عرب امارات میں کانسی کے دور کے آغاز کی علامت سمجھے جاتے ہیں۔ مہم جو افراد جبل حفیط ڈیزرٹ پارک میں مختلف آؤٹ ڈور سرگرمیوں سے بھی لطف اندوز ہو سکتے ہیں۔
جبل حفیط کے دامن میں واقع گرین مبزّرہ پارک العین کو گارڈن سٹی کہلانے کی ایک بڑی وجہ ہے۔ ٹھنڈی پہاڑی ہوا، گھنے سبزہ زار، وسیع لان اور قدرتی گرم پانی کے چشمے اس پارک کو سیر و تفریح اور آرام کے لیے ایک مثالی مقام بناتے ہیں، جہاں قدرتی ماحول میں وقت گزارنا ایک خوشگوار تجربہ ثابت ہوتا ہے۔
العین اویسس قدرت اور تاریخ کا حسین امتزاج پیش کرتا ہے۔ تقریباً ڈیڑھ لاکھ کھجور کے درختوں اور سو سے زائد اقسام کے پھلدار درختوں پر مشتمل یہ وسیع علاقہ بارہ سو ہیکٹر پر پھیلا ہوا ہے۔ یہاں آنے والے افراد انٹرایکٹو نمائشوں کے ذریعے اس نخلستان کی تاریخ سے آگاہ ہو سکتے ہیں۔ اسی مقام پر قدیم فلج نظام بھی موجود ہے، جو تین ہزار سال قبل بدوؤں نے پہاڑوں سے پانی لانے کے لیے تیار کیا تھا اور آج بھی کارآمد ہے۔
العین کا تاریخی جہیلی قلعہ انیسویں صدی کے آخر میں شیخ زاید بن خلیفہ کے حکم پر تعمیر کیا گیا تھا۔ مٹی سے بنے اس قلعے کو جدید تحفظاتی کام کے بعد دوبارہ بحال کیا گیا ہے اور یہ آج بھی خطے کی تاریخی وراثت اور قومی تشخص کی عکاسی کرتا ہے۔
العین سوق شہر کو مقامی انداز میں دیکھنے کا بہترین ذریعہ ہے۔ یہ روایتی بازار خریداری، تصاویر بنانے اور بھاؤ تاؤ کی روایت کو آزمانے کے شوقین افراد کے لیے ایک دلکش مقام ہے، جہاں مقامی ثقافت کو قریب سے محسوس کیا جا سکتا ہے۔







