متحدہ عرب امارات

یو اے ای کی معیشت 40 دن کے بحران سے متاثر نہیں ہوگی، ملک مضبوط بنیادوں پر قائم ہے: وزیر معیشت

خلیج اردو
متحدہ عرب امارات کے وزیر معیشت و سیاحت عبداللہ بن طوق المری نے کہا ہے کہ یو اے ای کی معیشت کسی “40 روزہ بحران” سے مستقبل میں متاثر نہیں ہوگی کیونکہ ملک کی معاشی بنیادیں گزشتہ پانچ دہائیوں کی ترقی، استحکام اور مضبوط بنیادی ڈھانچے پر قائم ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یو اے ای کی معیشت کسی عارضی مشکل پر نہیں بلکہ 50 برس کی منصوبہ بندی، لچک اور تیز رفتار ترقی پر کھڑی ہے۔

وزیر معیشت کے مطابق ملک میں نئی کمپنیوں اور کاروباری لائسنسز کا اجرا مسلسل جاری ہے جبکہ سرمایہ کاری کا عمل بھی بدستور آگے بڑھ رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کی معاشی حکمت عملی اور قیادت کے وژن کی بدولت یو اے ای میں ترقی اور کاروباری سرگرمیاں جاری ہیں۔

امریکا، اسرائیل اور ایران جنگ کے آغاز کے بعد سے یو اے ای کو دو ہزار سے زائد ڈرونز، 551 بیلسٹک میزائلوں اور 29 کروز میزائل حملوں کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ مبینہ جنگ بندی کے باوجود ایران نے گزشتہ ہفتے دوبارہ حملوں کا سلسلہ شروع کیا۔

وزارت معیشت و سیاحت نے اس دوران شہریوں کو یقین دہانی کرائی کہ ملک میں خوراک اور ضروری اشیا کا وافر ذخیرہ موجود ہے اور قیمتوں کی مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے۔

گزشتہ چار برسوں میں یو اے ای نے غیر تیل معیشت کو تیزی سے فروغ دیا ہے، جو اب مجموعی قومی پیداوار کا 77.3 فیصد حصہ بن چکی ہے۔

سونے کی صنعت کو ملکی معیشت کا اہم ستون قرار دیا جا رہا ہے۔ دبئی ملٹی کموڈیٹیز سینٹر کے مطابق 2024 میں قیمتی دھاتوں کی غیر ملکی تجارت کا حجم تقریباً 625 ارب درہم تک پہنچ گیا۔

عبداللہ بن طوق المری نے کہا کہ اگرچہ جنگ کے آغاز میں سیاحتی شعبہ متاثر ہوا، تاہم اب ہوٹلنگ اور سیاحت کی صنعت تیزی سے بحال ہو رہی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہوا بازی کے شعبے میں صورتحال کو بحران نہیں بلکہ ایک منفرد مرحلہ سمجھا جا رہا ہے کیونکہ یو اے ای بدستور کاروبار کیلئے کھلا ہوا ہے اور تمام ہوائی اڈے معمول کے مطابق فعال ہیں۔

وزیر معیشت کے مطابق بین الاقوامی فضائی کمپنیوں نے اپنی پالیسی کے تحت کچھ پروازیں محدود کیں، تاہم یو اے ای نے کبھی دنیا کو یہاں پروازیں روکنے کا نہیں کہا۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button