
خلیج اردو
یو اے ای میں فلو سیزن کے دوران ڈاکٹرز نے شہریوں کو خود سے اینٹی بایوٹک لینے سے خبردار کیا ہے۔ کلینکس میں بخار، کھانسی اور تھکن کے مریض آ رہے ہیں، جن میں بعض افراد پہلے ہی اینٹی بایوٹک استعمال کر چکے ہوتے ہیں۔
طبی ماہرین کے مطابق خاص طور پر غیر ملکی کمیونٹیز میں خود علاج کا رجحان اینٹی مائیکروبیل ریزسٹنس کے پھیلاؤ کا باعث بن رہا ہے، جو عالمی سطح پر ایک سنگین صحت کا خطرہ بن چکا ہے۔
وزارتِ صحت و تحفظ (MoHAP) نے “فائٹ سپر بگز” کے عنوان سے عالمی اینٹی بایوٹک آگاہی ہفتے کے موقع پر واکس کا اہتمام کیا، جس کا مقصد اینٹی بایوٹکس کے محتاط اور درست استعمال کی اہمیت اجاگر کرنا ہے۔
این ایم سی رائل اسپتال کی ماہرِ امراضِ باطن ڈاکٹر اقبال مبارک سراج کا کہنا ہے، “یو اے ای سمیت دنیا بھر میں اینٹی بایوٹکس ضرورت سے زیادہ تجویز کی جا رہی ہیں، خاص طور پر نزلہ، زکام اور فلو جیسے وائرل امراض میں۔”
انہوں نے بتایا کہ تحقیق کے مطابق او پی ڈی میں تقریباً 30 فیصد اینٹی بایوٹک نسخے غیر ضروری ہوتے ہیں، جبکہ مقامی سرویز میں نصف کے قریب افراد نے بغیر ڈاکٹر کے مشورے کے اینٹی بایوٹکس استعمال کرنے کا اعتراف کیا۔
ڈاکٹرز کے مطابق غیر ملکی شہری اکثر اپنے ملک سے لائی گئی بچی ہوئی اینٹی بایوٹکس استعمال کر لیتے ہیں۔ ڈاکٹر سراج کے مطابق، “کچھ مریض پرانی دوائیں محفوظ رکھتے ہیں اور گلے یا کان کے درد میں خود ہی استعمال کر لیتے ہیں۔”
انٹرنیشنل ماڈرن اسپتال کی فارمیسی منیجر ڈاکٹر رانیہ الخانی کا کہنا ہے، “عام غلطی یہ ہے کہ لوگ فلو یا نزلہ میں اینٹی بایوٹک شروع کر دیتے ہیں، یا بہتر محسوس ہونے پر دوا ادھوری چھوڑ دیتے ہیں۔”
ڈاکٹرز خبردار کرتے ہیں کہ اینٹی بایوٹکس وائرل انفیکشن میں فائدہ نہیں دیتیں بلکہ الرجی، معدے کے مسائل اور مستقبل میں علاج کو مشکل بنا سکتی ہیں۔
برجیل میڈیکل سینٹر کے کنسلٹنٹ ڈاکٹر محمد مصطفیٰ الشیخ کے مطابق، “اسپتالوں میں اینٹی بایوٹک اسٹیورڈشپ پروگرام متعارف کرائے جا رہے ہیں تاکہ صرف ضرورت کے وقت ہی دوائیں دی جائیں۔”
انہوں نے زور دیا کہ مریض مکمل کورس کریں، بچی ہوئی دوائیں کسی اور کو نہ دیں اور خود علاج سے گریز کریں۔







