متحدہ عرب امارات

وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ کی پریس کانفرنس: سیاسی اخلاقیات اور سفارتی کامیابیوں کا جائزہ

خلیج اردو
وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے اپنی حالیہ پریس کانفرنس میں دوٹوک موقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیاسی اختلافات کو دشمنی اور ریاست مخالف سوچ میں بدلنا کسی صورت قابلِ قبول نہیں ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ شخصیت پرستی اور انا پرستی دراصل ملک دشمن رویوں کی علامت بن چکی ہے، جو قومی مفادات کو زک پہنچانے کا باعث بن رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بعض سیاسی رہنماؤں کے مشکوک کرداروں کے ساتھ تعلقات اب تصاویر اور ویڈیوز کی صورت میں بے نقاب ہو چکے ہیں، لہٰذا ایسی ملاقاتوں کو "اتفاقیہ” قرار دینے کی وضاحتیں انتہائی کمزور اور ناقابلِ یقین ہیں۔

سفارتی محاذ پر گفتگو کرتے ہوئے وزیر اطلاعات نے بتایا کہ پاکستان اس وقت عالمی سطح پر ایک "توانا ثالث” اور بااثر آواز بن کر ابھر رہا ہے۔ وزیراعظم اور عسکری قیادت کے درمیان بہترین اشتراک اور فیلڈ مارشل کی سفارتی کاوشوں نے عالمی ایوانوں میں پاکستان کا لوہا منوا لیا ہے۔ اس بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ نے بھارتی میڈیا کو اپنی ہی حکومت پر تنقید کرنے پر مجبور کر دیا ہے، کیونکہ پاکستان نے کامیابی سے خود کو بین الاقوامی سیاست میں دوبارہ "ریلیونٹ” کر لیا ہے اور سفارتی تنہائی کا تاثر مکمل طور پر ختم ہو چکا ہے۔

معاشی استحکام کے حوالے سے عطا تارڑ نے آئی ایم ایف کو خط لکھنے جیسے اقدامات کی شدید مذمت کرتے ہوئے انہیں "شرپسندی” قرار دیا۔ انہوں نے زور دیا کہ ملک کو ڈیفالٹ کی طرف دھکیلنے کی کوششیں براہِ راست مزدور، کسان اور وائٹ کالر طبقے کے معاشی قتل کے مترادف تھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ریاست کی معیشت اور عوام کے مستقبل کے ساتھ سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کرنا کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا اور تمام سیاسی قائدین کو اپنی انا کے بجائے ملک کے وسیع تر مفاد کو مقدم رکھنا چاہیے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button