
باسمتی بوم، پاکستان دنیا کا تیسرا بڑا چاول برآمد کرنے والا ملک بن گیا، یو اے ای سب سے بڑی منڈی
دبئی: دسمبر 2025 میں پاکستان کی چاول برآمدات میں نمایاں بحالی دیکھنے میں آئی، جو نومبر کے مقابلے میں 14 فیصد بڑھ گئیں۔ اس اضافے کی بڑی وجہ باسمتی چاول کی برآمدات میں 50 فیصد سے زائد اضافہ رہا، جس کی رپورٹ ڈان نے دی۔
اس تیز رفتار اضافے کے باعث پاکستان نے ویتنام کو پیچھے چھوڑتے ہوئے دسمبر کے مہینے میں بھارت اور تھائی لینڈ کے بعد دنیا کا تیسرا بڑا چاول برآمد کرنے والا ملک بننے کا اعزاز حاصل کیا۔
ڈان کے مطابق تجارتی اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان نے دسمبر میں (ایران کو چھوڑ کر) 4 لاکھ 89 ہزار ٹن چاول برآمد کیے، جبکہ ویتنام کی برآمدات 3 لاکھ 87 ہزار ٹن رہیں۔ یہ پاکستان کی تاریخ کی سب سے زیادہ ماہانہ چاول برآمدات ہیں، جو اس شعبے میں نئی رفتار کی نشاندہی کرتی ہیں۔
یو اے ای پاکستان کی سب سے بڑی منڈی رہا، جہاں 74,897 ٹن چاول برآمد کیے گئے، جن میں 16,850 ٹن باسمتی شامل تھا۔ چین 74,685 ٹن کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہا۔ دیگر اہم منڈیوں میں تنزانیہ (62,900 ٹن)، کینیا (60,300 ٹن)، آئیوری کوسٹ (41,700 ٹن)، گنی بساؤ (31,850 ٹن)، ملائیشیا (23,930 ٹن)، مڈغاسکر (17,800 ٹن)، قازقستان (17,050 ٹن)، سعودی عرب (16,032 ٹن، جن میں 5,350 ٹن باسمتی شامل)، جبکہ یورپی یونین اور برطانیہ کو مجموعی طور پر 21,100 ٹن چاول برآمد کیے گئے، جن میں 15,600 ٹن باسمتی تھا۔ عمان، امریکا اور کینیڈا کو بھی محدود مقدار میں برآمدات ہوئیں۔
دسمبر میں ایک اہم پیش رفت وسطی ایشیا میں پاکستان کی بڑھتی ہوئی موجودگی رہی۔ قازقستان کو برآمدات 17 ہزار ٹن سے تجاوز کر گئیں، جن میں 10,300 ٹن باسمتی شامل تھا، جبکہ ازبکستان کو 10,382 ٹن چاول برآمد کیے گئے۔ ماہرین کے مطابق یہ ایک ساختی تبدیلی کی علامت ہے، جہاں پاکستان اب افغانستان کے ذریعے ترسیل کے بجائے قازقستان، ازبکستان، آذربائیجان، ترکمانستان، تاجکستان اور کرغزستان کو براہ راست برآمدات کر رہا ہے۔
اس مضبوط کارکردگی کے باوجود، برآمد کنندگان کا کہنا ہے کہ کئی بنیادی مسائل اب بھی موجود ہیں۔ عراق، جو بھارتی باسمتی کا بڑا درآمد کنندہ ہے، وہاں پاکستان کی برآمدات نہ ہونے کے برابر ہیں، جبکہ ترکی، جو عراق اور مشرقِ وسطیٰ و مشرقی یورپ کے لیے اہم ٹرانزٹ مرکز ہے، وہاں بھی برآمدات محدود ہیں۔
وزیراعظم شہباز شریف نے چاول برآمدات بڑھانے اور تجارتی خسارہ کم کرنے کے لیے جامع حکمتِ عملی تیار کرنے کی ہدایت کی ہے۔
اگرچہ حکام نے کم قیمت بھارتی چاول اور فائیٹو سینیٹری وجوہات کو مسائل کا سبب قرار دیا ہے، مگر برآمد کنندگان کے مطابق اصل مسئلہ پالیسی کی خامیاں ہیں۔
چاول کے تجزیہ کار حمید ملک کے مطابق عالمی مسابقت، بالخصوص بھارت میں زیادہ پیداوار، کمزور طلب، بڑھتے ہوئے فریٹ اور لاجسٹک اخراجات، غیر مستقل مالی و مانیٹری پالیسیاں، ضابطہ جاتی مسائل، ذخیرہ اندوزی کے باعث مقامی قیمتوں میں اضافہ اور سرحدی سیکیورٹی کی رکاوٹیں اہم چیلنجز ہیں۔
تاہم مثبت پہلو بھی سامنے آ رہے ہیں۔ بنگلہ دیش سے طلب مضبوط ہے، اگرچہ زیادہ فریٹ اخراجات مسابقت کو متاثر کر رہے ہیں، جبکہ اکتوبر 2025 میں فصل آنے کے بعد وسطی ایشیا ایک امید افزا منڈی بن کر ابھرا ہے۔
برآمد کنندگان کا کہنا ہے کہ بھارتی چاول پر امریکا کی جانب سے 50 فیصد ٹیرف کے نفاذ سے بھی پاکستان کو فائدہ ہوا ہے اور امریکا کو برآمدات میں اضافہ ہوا ہے۔ ایران میں زرمبادلہ کی کمی کے باعث درآمد کنندگان کو اپنی رقم استعمال کرنا پڑ رہی ہے، جس سے قربت کے باعث پاکستان کو فائدہ پہنچا ہے، ڈان نے رپورٹ کیا۔







