متحدہ عرب امارات

نوکری سے برطرفی اور تنخواہوں میں کٹوتی صرف مالی نہیں بلکہ ذہنی صحت، خاندانی زندگی اور خود اعتمادی پر بھی گہرا اثر ڈالتی ہے

خلیج اردو
Dubai میں ایک رہائشی اے کے کی 18 سالہ ملازمت سے برطرفی نے اس کی زندگی کو شدید ذہنی اور جذباتی دباؤ میں ڈال دیا ہے۔ چار ماہ کی بے روزگاری کے دوران وہ اکثر مایوسی اور بے وقعتی کے احساسات کا سامنا کر رہا ہے۔

ماہرین کے مطابق یہ صورتحال عام ہے۔ انکریمنٹل نامی ویلفیئر ادارے کے بانی کرس ملر نے بتایا کہ نوکری جانے کے بعد لوگ خود کو خاندان پر بوجھ سمجھنے لگتے ہیں، خاص طور پر مرد حضرات جو خود کو گھر کا کفیل تصور کرتے ہیں۔ Incremental

انہوں نے کہا کہ جب کسی کی شناخت اس کے عہدے اور کام سے جڑی ہو تو اچانک نوکری ختم ہونے پر مقصدِ زندگی کھو دینے کا احساس پیدا ہوتا ہے، جو ذہنی دباؤ اور غیر یقینی صورتحال کو بڑھاتا ہے۔

متاثرہ شخص اے کے کے مطابق مالی مشکلات فوری طور پر سامنے آئیں، اہلیہ کی آمدنی سے گھر کا خرچ پورا کرنا مشکل ہو گیا جس کے باعث بچی کو نرسری سے بھی نکالنا پڑا۔ اب وہ کم تنخواہ والی نوکریوں کے لیے درخواستیں دے رہا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ آن لائن تھراپی اور اپنی بیٹی کے ساتھ وقت گزارنا انہیں جذباتی طور پر سنبھلنے میں مدد دے رہا ہے، تاہم خود اعتمادی بحال کرنا ابھی بھی ایک چیلنج ہے۔

Sage Clinics کی کلینیکل سائیکالوجسٹ مینا شفیق کے مطابق نوکری کا دباؤ پورے خاندان پر اثر انداز ہوتا ہے، جس سے گھر میں چڑچڑاپن اور جذباتی تناؤ بڑھ جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بروقت اور کھلی گفتگو، مشترکہ فیصلے اور ذہنی صحت کے مسائل کو نظر انداز نہ کرنا اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے ضروری ہے۔

کرس ملر نے مشورہ دیا کہ نوکری کی تلاش کو بھی ایک باقاعدہ روٹین کے طور پر لیا جائے، روزانہ اہداف مقرر کیے جائیں اور جسمانی سرگرمی اور دھوپ میں وقت گزارنا ذہنی صحت کے لیے بہت اہم ہے۔

ماہرین کے مطابق ابتدائی 48 گھنٹوں میں کیے گئے فیصلے اس مشکل دور سے نکلنے میں انتہائی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button