
خلیج اردو:
دبئی: دبئی رئیل اسٹیٹ کورٹ نے ریویرا کے علاقے میں ایک رہائشی منصوبے میں تاخیر اور معاہدہ جاتی ذمہ داریوں کی عدم تکمیل پر ڈویلپر کے خلاف فیصلہ دیتے ہوئے معاہدہ منسوخ کر دیا ہے اور کمپنی کو حکم دیا ہے کہ وہ سرمایہ کار کو 5 لاکھ 16 ہزار 872 درہم واپس کرے۔ عدالت نے مادی اور اخلاقی نقصانات کے ازالے کے طور پر 1 لاکھ درہم اضافی معاوضہ ادا کرنے کا بھی حکم دیا ہے، جبکہ عدالتی فیس، مقدمے کے اخراجات اور قانونی خرچ بھی ڈویلپر ہی برداشت کرے گا۔
عدالتی ریکارڈ کے مطابق یہ تنازع ایک آف پلان رہائشی یونٹ کی خریداری کے معاہدے سے شروع ہوا، جس کی کل مالیت 17 لاکھ 22 ہزار درہم تھی اور ادائیگی دو اقساط میں ہونا تھی۔ سرمایہ کار نے پہلی قسط 5 لاکھ 16 ہزار 872 درہم کے ساتھ رجسٹریشن فیس اور انتظامی چارجز بھی ادا کیے اور اپنی تمام ذمہ داریاں پوری کر دیں۔
تاہم سرکاری ریکارڈ اور تعمیراتی پیش رفت کی رپورٹس سے واضح ہوا کہ ڈویلپر طے شدہ تعمیراتی شیڈول کے مطابق منصوبہ مکمل کرنے میں ناکام رہا اور کام اس مرحلے تک نہیں پہنچا تھا کہ مقررہ مدت میں یونٹ کی حوالگی ممکن ہو سکے، جس کے نتیجے میں منصوبے میں نمایاں تاخیر ہوئی۔
سماعت کے دوران ڈویلپر نے مؤقف اختیار کیا کہ معاہدے میں تکمیل مدت میں توسیع کی گنجائش موجود ہے اور تعمیراتی کام تکمیل کے قریب ہے، مگر عدالت نے اس مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے قرار دیا کہ تاخیر معاہدے میں طے شدہ مدت سے تجاوز کر چکی ہے اور دستاویزی شواہد اور پیش رفت رپورٹس سے خلاف ورزی ثابت ہوتی ہے۔
عدالت نے فیصلہ دیا کہ ڈویلپر کی ناکامی معاہدہ منسوخ کرنے کے لیے کافی بنیاد ہے، اس لیے دونوں فریقوں کو معاہدہ سے پہلے والی قانونی پوزیشن پر واپس لایا جائے اور ادا کی گئی تمام رقوم واپس کی جائیں۔ معاوضہ اس نقصان اور موقع سے محرومی کی تلافی کے طور پر قرار دیا گیا جو سرمایہ کار اپنی رقم کے استعمال یا جائیداد سے فائدہ اٹھا کر حاصل کر سکتا تھا۔
یہ فیصلہ اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ دبئی کی عدالتیں آف پلان جائیداد کے معاملات میں سرمایہ کاروں کے حقوق کے تحفظ کے لیے واضح اور مضبوط مؤقف رکھتی ہیں، خصوصاً اس صورت میں جب ڈویلپر مقررہ مدت میں منصوبہ مکمل کرنے اور یونٹ حوالے کرنے میں ناکام رہتے ہیں۔







