خلیج اردو
14 اکتوبر 2020
راس الخیمہ: متحدہ عرب امارات میں ایک عرب جوڑے کا وہ بچہ جو ابھی تک ماں کے پیٹ میں تھا لیکن ڈاکٹروں کی غفلت کے باعث ہلاک ہوا ، اس بچے کے والدین کو 500 ہزار درہم جرمانہ ادا کیا جائے گا۔
سوال کورٹ نے اسپتال عملے کو غفلت کا مرتکب قرار دے کر حکم دیا کہ وہ والدین کو جرمانے کے طور پر رقم ادا کریں۔
عدالتی ریکارڈ کے مطابق ایک عورت پرائیویٹ اسپتال میں چیک اپ کیلئے گئی۔ وہاں پر گائنالوجسٹ نے خاتون کو ہائی بلڈ پریشر اور شوگر کی وجہ سے اسے کلنک میں داخل کرایا۔
مریضہ نے اسپتال کے عملے کو بتایا کہ ان کے والدین ہائی بلڈ پریشر اور شوگر کا شکار ہیں۔ اسپتال کے عملے نے غفلت کا مظاہرہ کرتے ہوئے خاتون کو کسی اینڈروکرینولوجسٹ کو ریفر کرنے کے بجائے اسپتال میں اس کا علاج برقرا رکھا۔
ایک مہینہ بعد خاتون کو بتایا گیا کہ اس کا بیٹا بالکل ٹھیک ہے جب انہوں نے اس کا الٹراساؤنڈ سے معائنہ کیا۔ تاہم جب ان کا سی سیکشن سے بچہ پیدا کرنے کا ارادہ بن گیا تو ڈاکٹروں نے بتایا کہ اس کا بچہ تو مر چکا ہے۔
اس جوڑے نے وزارت صحت کو درخواست دی کہ وہ اس واقعے کی تحقیقات کریں۔ جس پر وزارت نے ایک میڈیکل انکوئری بٹھائی اور آزاد اور شفاف انکوئری کے نتیجے میں معلوم ہوا کہ خاتون ہائی بلڈ پریشر اور شوگر کا شکار تھی۔ تاہم جب کلنک میں گائنالوجسٹ نے ان کا معائنہ کیا اس نے اسے غیر ضروری طور پر ایڈمٹ کیا اور غفلت کا مظاہرہ کرتے ہوئے خاتون کے بچے کو ضائع کرنے کی وجہ بنا۔ خاتون کے بچے کو بچایا جا سکتا تھا مگر نہیں بچایا گیا۔
Source : Khaleej Times






