خلیج اردو آن لائن:
ایک برطانوی باشندے پر الزام ہے کہ اس نے جعلی سرکاری دستاویزات کی مدد سے دبئی کے ایک بزنس مین کے ساتھ 7 اشاریہ 7 ملین درہم کا فراڈ کیا ہے۔
دبئی کی ابتدائی عدالت کو پیر کے روز سماعت کے دوران بتایا گیا کہ 39 سالہ مدعا علیہ نے مصری بزنس مین کو دبئی میں ایک جعلی پراپرٹی فروخت کی ہے۔ اس نے 42 سالہ متاثرہ شخص کو بیوقوف بنانے کے لیے جعلی رسیدیں اور دیگر دستاویزات بنائیں۔
متاثرہ شخص نے گواہی دی کہ وہ برطانوی مدعا علیہ کو شیخ زید روڈ پر اسکے رئیل اسٹیٹ کے دفتر میں ملا اور اس نے اسے برج خلیفہ کے پاس ایک آئندہ پراجیکٹ میں ہوٹل میں رہائش کی پیش کش کی۔
مصری کاروباری شخص کا مزید بتانا تھا کہ "ہم اس (رہائش گاہ) کو 7 اشاریہ 7 ملین درہم میں خریدنے لیے رضا مند ہوگئے۔ میں نے 2015 میں رقم تین قسطوں میں ایڈوانس ادا کی”۔
اس کے بعد مدعا علیہ نے متاثرہ شخص کو رسیدیں دیں اور بعدازں اسے دبئی کے سرکاری محکمے کی طرف سے جاری کردہ ایک کنٹریکٹ دیا، جس پر سرکاری مہریں ثبت تھیں۔
کاروباری شخص نے بتایا کہ مدعا علیہ نے "دعویٰ کیا کہ یونٹ اس کے نام پر رجسٹر ہوچکا ہے اور فائنل کانٹریکٹ پراجیکٹ کے اختتام پر دیا جائےگا”۔
تاہم 2018 میں جب متاثرہ شخص رئیل اسٹیٹ کے دفتر گیا اور ان سے رہائشی یونٹ کے بارے پوچھا تھا کمپنی کی طرف سے اسے بتایا گیا کہ یہ تمام دستاویزات جعلی ہیں اور انکی طرف سے جاری نہیں کی گئیں۔
بزنس مین نے مزید بتایا کہ” انہوں نے مجھے کہا میں دبئی کے لینڈ ڈٰیپارٹمنٹ سے رابطہ کروں، جنہوں نے تصدیق کی کہ یہ معاہدہ جعلی ہے اور پراپرٹٰی انکے سسٹم میں رجسٹر نہیں ہے”۔
اس کے بعد متاثرہ شخص دوبارہ مدعاعلیہ کے دفتر گیا اور انہوں نے اسے بتایا کہ مدعاعلیہ ملک سے فرار ہوگیا ہے اور اس کمپنی کے فنڈز میں بھی فراڈ کیا اور دوسرے کئی کسٹمرز کو بھی دھوکا دیا ہے۔
سرکاری ریکارڈ کے مطابق مدعا علیہ جس کمپنی میں کام کرتا تھا وہاں سے بھی اس نے 24 اشاریہ 9 ملیں درہم کا فراڈ کیا اور ملک سے فرار ہوگیا۔
تاہم اس کی غیر موجودگی میں اسے تین ماہ قید اور غبن کے جرم ملک بدری کی سزا سنائی گئی ہے۔
دبئی پبلک پراسیکیوشن نے مدعا علیہ پر جعلسازی کا الزام عائد کیا ہے۔
مزید برآں، کیس اگلی سماعت 26 اکتوبر کو ہوگی۔
Source: Gulf News







