
خلیج اردو
سونے کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باوجود متحدہ عرب امارات میں شہریوں کا قیمتی دھات میں رجحان کم نہیں ہوا بلکہ اب یہ رجحان ڈیجیٹل انداز میں بڑھ رہا ہے۔ ملک میں بڑی تعداد میں رہائشی اب آن لائن صرف 0.1 گرام سے سونا خرید رہے ہیں، اور اوسطاً 500 درہم فی سرمایہ کاری کے ذریعے آہستہ آہستہ اپنا ذخیرہ بڑھا رہے ہیں۔
ماہرین کے مطابق یہ تبدیلی واضح طور پر ایک نئے رویے کی نشاندہی کرتی ہے جہاں لوگ بڑی رقم جمع کرنے کے بجائے چھوٹے مگر مستقل سرمایہ کاری کے ذریعے سونا خرید رہے ہیں، جس سے سونا بچت کا ایک باقاعدہ ڈیجیٹل ذریعہ بنتا جا رہا ہے۔
AstraTech کے فِن ٹیک پلیٹ فارم Botim نے اگست میں اپنی نئی ایپ "O Gold” کے اجرا کے بعد سے اب تک 2.2 کروڑ درہم سے زائد مالیت کا سونا فروخت کیا ہے۔ کمپنی کے نائب صدر رشبھ سنگھ کے مطابق، 7 لاکھ 75 ہزار سے زائد صارفین نے اس فیچر کو استعمال کیا، جن میں سے زیادہ تر پہلی بار سونا خریدنے والے ہیں۔ ان کے مطابق اوسط سرمایہ کاری تقریباً 700 درہم ہے، جبکہ 64 فیصد صارفین نے 500 درہم سے کم مالیت میں خریداری کی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ جسمانی سونا اب بھی ثقافتی اہمیت رکھتا ہے، مگر ڈیجیٹل سونا عملی اور کم لاگت متبادل بن رہا ہے۔ یہ سونا ایک طرح سے سونے کے ETF اور بلین کے امتزاج کی شکل اختیار کر چکا ہے، جو ٹیکنالوجی کے ذریعے آسان اور محفوظ سرمایہ کاری کی سہولت فراہم کرتا ہے۔
ڈیجیٹل سونا روایتی سونے اور ETF کے ساتھ ایک اضافی متبادل کے طور پر اپنی جگہ بنا رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ نوجوان طبقہ ایپ کے ذریعے چھوٹے پیمانے پر سرمایہ کاری کر رہا ہے اور مستقبل میں یہ شعبہ نمایاں ترقی حاصل کرے گا۔
Botim پلیٹ فارم شریعت کے مطابق ایک ایسا گولڈ ارننگ پروگرام بھی متعارف کرا رہا ہے جس میں صارفین کو سالانہ 3 فیصد تک سونے کے گرام کے برابر منافع دیا جائے گا، جب کہ آئندہ چاندی میں سرمایہ کاری اور ڈیجیٹل سونے کو فزیکل سکے یا بار میں تبدیل کرنے کی سہولت بھی دستیاب ہو گی۔
ورلڈ گولڈ کونسل کے مطابق ڈیجیٹلائزیشن سونے کو روایتی ذخیرۂ قدر سے ایک متحرک ڈیجیٹل اثاثہ میں تبدیل کر سکتی ہے، جو مستقبل میں عالمی سرمایہ کاری کے نظام کا لازمی جزو بن جائے گا۔







