متحدہ عرب امارات

ابوظبی میں ڈزنی لینڈ منصوبہ علاقائی کشیدگی کے باوجود جاری، کمپنی نے طویل المدتی سرمایہ کاری اور متحدہ عرب امارات پر مکمل اعتماد کا اظہار کردیا

خلیج اردو
والٹ ڈزنی کمپنی نے تصدیق کی ہے کہ مشرق وسطیٰ میں اپنے پہلے تھیم پارک "ڈزنی لینڈ ابوظبی” کا منصوبہ علاقائی کشیدگی کے باوجود مکمل طور پر جاری ہے اور اس کی حکمت عملی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔

کمپنی کی جانب سے شیئر ہولڈرز کو جاری خط میں، جس پر ڈزنی کے چیف ایگزیکٹو جوش ڈی امارو اور چیف فنانشل آفیسر ہیو جانسٹن کے دستخط موجود تھے، کہا گیا کہ بڑے تھیم پارکس طویل المدتی منصوبے ہوتے ہیں اور یہ سرمایہ کاری مستقبل میں بھی کمپنی کے کاروبار کو فائدہ پہنچاتی رہے گی۔

یہ پہلا موقع ہے کہ امریکہ، اسرائیل اور ایران جنگ کے آغاز کے بعد ڈزنی نے باضابطہ طور پر ابوظبی منصوبے سے اپنی وابستگی ظاہر کی ہے۔ کمپنی کے مطابق "ڈزنی لینڈ ابوظبی” کی اسٹریٹجک اہمیت برقرار ہے اور منصوبہ طویل المدتی وژن کے تحت آگے بڑھ رہا ہے۔

مئی 2025 میں اعلان کیا گیا تھا کہ یہ مشرق وسطیٰ کا پہلا جبکہ دنیا کا ساتواں ڈزنی تھیم پارک ہوگا۔ اس سے قبل ڈزنی کے پارکس کیلیفورنیا، فلوریڈا، ٹوکیو، پیرس، ہانگ کانگ اور شنگھائی میں موجود ہیں۔

ابوظبی کی کمپنی "میرال” اس منصوبے کی تعمیر اور آپریشنز کی نگرانی کرے گی جبکہ ڈزنی تخلیقی ڈیزائن اور تفریحی سرگرمیوں کی تیاری کی ذمہ دار ہوگی تاکہ عالمی معیار کا تجربہ فراہم کیا جاسکے۔

میرال گروپ کے چیف ایگزیکٹو محمد عبداللہ الزعابی نے حال ہی میں سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ایکس” پر بتایا کہ انہوں نے ڈزنی پارکس انٹرنیشنل کی نئی سربراہ تاسیا فلیپاٹوس سے ملاقات کی، جس میں "ڈزنی لینڈ ابوظبی” کے مستقبل، شراکت داری اور جدت پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔

جنوری میں والٹ ڈزنی کمپنی کے چیف ایگزیکٹو رابرٹ "باب” آئیگر نے انسٹاگرام پر منصوبے کی جگہ کی ابتدائی تصاویر بھی شیئر کی تھیں اور کہا تھا کہ "ابوظبی ڈزنی لینڈ مستقبل میں کمپنی کا سب سے جدید اور انٹرایکٹو تفریحی مقام ہوگا۔”

کمپنی کے مطابق پارک کو "واضح طور پر اماراتی شناخت” دی جائے گی جبکہ ڈزنی کی روایتی طرز اور کہانیوں کو بھی برقرار رکھا جائے گا۔ منصوبے کی تعمیر ابتدائی مرحلے میں ہے جبکہ باضابطہ تعمیراتی آغاز اور مکمل شیڈول 2026 کے دوران سامنے آنے کا امکان ہے۔

ماہرین کے اندازوں کے مطابق "ڈزنی لینڈ ابوظبی” 2030 کی دہائی کے آغاز میں عوام کے لیے کھولا جاسکتا ہے، جو متحدہ عرب امارات میں سیاحت اور تفریحی صنعت کے لیے ایک بڑا سنگ میل ثابت ہوگا۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button