
خلیج اردو
ہتھراس: 31 مئی 2025
بھارت کی ریاست اتر پردیش کی ایک عدالت نے دو کم عمر بہنوں کے قتل میں ملوث دو افراد کو سزائے موت سنائی ہے، تاہم کیس کا مبینہ ماسٹر مائنڈ، جو کہ دبئی میں مقیم ہے، تاحال قانون کی گرفت سے باہر ہے۔
13 سالہ شریسٹی اور 7 سالہ وِدھی کو رواں برس ان کے گھر میں سوتے ہوئے قتل کر دیا گیا تھا۔ واردات کے دوران بچیوں کے والدین شدید زخمی ہوئے۔ واقعے کے بعد تحقیقات سے معلوم ہوا کہ یہ خونی سازش دبئی میں مقیم ان کے چچا اور بچیوں کے والد کے کزن، چھوٹے لال گوتم، نے مبینہ طور پر جائیداد کے تنازع پر رچائی تھی۔
قتل میں ملوث دو افراد وکاس اور لالو پال کو بدھ کے روز ہتھراس کی ایک خصوصی عدالت نے جرم ثابت ہونے پر سزائے موت سنائی۔ عدالت نے 26 مئی کو انہیں مجرم قرار دیا تھا، اور صرف دو دن بعد فیصلہ سنا دیا گیا۔
عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے متاثرہ بچیوں کی ماں ویرانگنا سنگھ نے کہا، "عدالت نے میری بیٹیوں کے قاتلوں کو سزائے موت دی، میں اس فیصلے کا احترام کرتی ہوں، لیکن اصل سازشی دبئی میں موجود ہے، اور پولیس اسے اب تک واپس نہیں لا سکی۔”
پولیس ریکارڈ کے مطابق، مجرم وکاس نے دورانِ تفتیش اعتراف کیا تھا کہ یہ قتل دبئی میں مقیم چچا کے کہنے پر کیا گیا، کیونکہ مقتول بچیوں کے والد کے بیٹے نہ ہونے کے باعث مبینہ ماسٹر مائنڈ کو اپنی جائیداد پر دعوے سے محروم ہونے کا خدشہ تھا۔
مقدمے کے دوران بارہ گواہوں نے عدالت میں بیان دیا، جن کی روشنی میں عدالت نے قتل اور سازش ثابت ہونے پر دونوں مجرموں کو سزائے موت سنائی۔ بھارتی قونصلیٹ دبئی نے اس معاملے پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا ہے۔







