متحدہ عرب امارات

دبئی میں معیشت کو سہارا دینے کیلئے ڈیڑھ ارب درہم کے نئے مراعاتی پیکیج کا اعلان، سیاحت، تعلیم اور کاروباری شعبے مستفید ہوں گے

خلیج اردو
شیخ حمدان بن محمد بن راشد آل مکتوم نے دبئی کی اقتصادی مضبوطی اور عالمی مسابقت کو مزید مستحکم بنانے کیلئے ڈیڑھ ارب درہم کے نئے اقتصادی مراعاتی پیکیج کی منظوری دے دی ہے، جس کے بعد گزشتہ دو ماہ میں متعارف کروائے گئے مجموعی امدادی پیکیجز کی مالیت ڈھائی ارب درہم تک پہنچ گئی ہے۔

ولی عہد دبئی، جو متحدہ عرب امارات کے نائب وزیراعظم، وزیر دفاع اور The Executive Council of Dubai کے چیئرمین بھی ہیں، نے بتایا کہ نئے پیکیج میں 33 مختلف اقدامات شامل ہیں جن پر آئندہ تین سے بارہ ماہ کے دوران عملدرآمد کیا جائے گا۔

نئے پیکیج کے تحت سیاحت، تجارت، تعلیم، کسٹمز، ٹرانسپورٹ، ثقافت، جائیداد اور سول ایوی ایشن سمیت کئی اہم شعبوں کو سہولتیں اور مالی ریلیف فراہم کیا جائے گا۔

تعلیمی شعبے میں Knowledge and Human Development Authority کے تحت رجسٹرڈ نجی اداروں کو لائسنس تجدید فیس قسطوں میں ادا کرنے اور جرمانوں میں مہلت دی جائے گی جبکہ ابتدائی تعلیمی مراکز کو لائسنس فیس، جرمانوں اور دبئی میونسپلٹی مارکیٹ فیس سے استثنا حاصل ہوگا۔

سیاحتی شعبے میں Dubai Department of Economy and Tourism کے تحت رجسٹرڈ اداروں کو ٹورازم درہم، ہوٹل روم اور ریسٹورنٹ سیلز فیس سمیت مختلف چارجز سے استثنا دیا جائے گا جبکہ تقریبات، نمائشوں اور کانفرنسوں کے اجازت ناموں کی فیس بھی معاف کی جائے گی۔

کاروباری شعبے کیلئے حکومت نے سپلائی کنٹریکٹس پر حتمی سکیورٹی شرح 10 فیصد سے کم کرکے 2 فیصد کرنے کا اعلان کیا ہے جبکہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کیلئے لائسنس کی مدت میں دو سال کی توسیع دی جائے گی۔

Dubai Customs کے تحت درآمدی کسٹمز واجبات قسطوں میں ادا کرنے کی سہولت فراہم کی جائے گی جبکہ کسٹمز جرمانوں میں 80 فیصد تک کمی کی جائے گی۔ ٹرانسپورٹ سیکٹر میں رجسٹرڈ اداروں کو بھی ادائیگیوں میں مہلت اور بعض خلاف ورزیوں پر استثنا حاصل ہوگا۔

شیخ حمدان نے کہا کہ شیخ محمد بن راشد آل مکتوم کے وژن کے تحت دبئی نے ایسا ماڈل تشکیل دیا ہے جو چیلنجز کو ترقی کے مواقع میں تبدیل کرتا ہے۔

یہ نیا پیکیج اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ دبئی حکومت عالمی اقتصادی حالات کے باوجود کاروباری سرگرمیوں، سرمایہ کاری اور عوامی اعتماد کو برقرار رکھنے کیلئے مسلسل عملی اقدامات کر رہی ہے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button