
خلیج اردو
دبئی: دبئی میں قائم معروف فوڈ کمپنی IFFCO Group شدید مالی بحران کا شکار ہو گئی ہے اور تقریباً دو ارب ڈالر کے قرض کے باعث اس کے خلاف عبوری لیکویڈیشن (تحفظی تحلیل) کی کارروائی شروع کر دی گئی ہے، جسے خلیجی صارفین کے شعبے کا ایک بڑا کارپوریٹ بحران قرار دیا جا رہا ہے۔
رپورٹس کے مطابق کمپنی، جو لندن ڈیری، ٹیفنی اور نور جیسے معروف برانڈز کی مالک ہے، کئی ماہ سے قرض کی ری اسٹرکچرنگ کے لیے کوششیں کر رہی تھی تاہم قرض دہندگان کے ساتھ کوئی حتمی معاہدہ نہ ہو سکا۔ اس کے بعد بینکوں کے ایک گروپ نے، جس کی قیادت HSBC Holdings کر رہا ہے، کمپنی کے کنٹرول کے لیے قانونی کارروائی شروع کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق عدالتوں میں FTI Consulting کو عبوری لیکویڈیٹر مقرر کرنے کی درخواست دی گئی ہے تاکہ کمپنی کے اثاثوں کو محفوظ رکھا جا سکے اور آئندہ کے لائحہ عمل کا تعین کیا جا سکے۔
ماہرین کے مطابق کمپنی پر تقریباً دو ارب ڈالر کا قرض بڑھتی ہوئی عالمی مالیاتی سختیوں اور بعض منڈیوں میں طلب میں کمی کے باعث سنبھالنا مشکل ہو گیا۔ اس کے ساتھ ساتھ شیئر ہولڈرز کے اختلافات اور گورننس کے مسائل نے بھی صورتحال کو پیچیدہ بنا دیا۔
خطے میں ایران سے جڑی کشیدگی اور آبنائے ہرمز میں تجارتی رکاوٹوں نے بھی کمپنی کی سپلائی چین کو متاثر کیا۔ خوراک درآمد کرنے والی کمپنیوں کے لیے شپمنٹ میں تاخیر، لاگت میں اضافہ اور انشورنس اخراجات بڑھنے سے مالی دباؤ مزید بڑھ گیا۔
یاد رہے کہ Rothschild & Co کو قرض دہندگان سے مذاکرات کے لیے مقرر کیا گیا تھا، تاہم حالیہ مہینوں میں کمپنی کے بورڈ میں بار بار تبدیلیاں بھی قرض دہندگان کے اعتماد میں کمی کا باعث بنیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ بحران صرف ایک کمپنی تک محدود نہیں بلکہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ خلیجی خطے میں بڑی فیملی ملکیت کمپنیوں کو بڑھتی ہوئی لاگت، سپلائی چین کے مسائل اور گورننس کے چیلنجز کا سامنا ہے۔
اگرچہ متحدہ عرب امارات کا مجموعی فوڈ اور کنزیومر سیکٹر اب بھی مضبوط سمجھا جاتا ہے، تاہم آئی ایف ایف سی او کا بحران اس بات کی یاد دہانی ہے کہ عالمی معاشی دباؤ اور جغرافیائی سیاسی حالات بڑے کاروباری گروپس کو بھی متاثر کر سکتے ہیں۔







