
خلیج اردو
دبئی: دبئی فنانشل مارکیٹ میں رجسٹرڈ اور متنوع سرمایہ کاری رکھنے والی کمپنی دبئی انویسٹمنٹس نے آئندہ چند برسوں میں اپنی چار ذیلی کمپنیوں کو ابتدائی عوامی پیشکش کے ذریعے شیئر مارکیٹ میں لانے کا اعلان کیا ہے۔ کمپنی کے نائب چیئرمین اور سی ای او خالد بن کلبان نے بتایا کہ ہر سال ایک کمپنی کو مارکیٹ میں لانے کا منصوبہ ہے۔
خالد بن کلبان نے خلیج ٹائمز کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ کمپنی نے اندرونی و بیرونی تجزیے مکمل کر لیے ہیں اور متعلقہ حکام سے منظوری کے مراحل میں ہیں۔ بعض اداروں کو فی الحال مارکیٹ میں لانے کی اجازت دے دی گئی ہے جبکہ بعض کو مزید ترقی کے لیے وقت دیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکام اس وقت 500 ملین ڈالر سے کم مالیت والی کمپنیوں کو عوامی سطح پر لانے کے حق میں نہیں، جس کے باعث کچھ منصوبے ایک سے دو سال تاخیر کا شکار ہو سکتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ یو اے ای میں کارپوریٹ ٹیکس متعارف ہونے کے بعد کمپنیوں کے مالیاتی تجزیے ضروری ہو گئے ہیں، جس پر کام جاری ہے۔
عالمی محصولات کا اثر اور مقامی بازار خالد بن کلبان کے مطابق امریکہ کی جانب سے امپورٹ پر لگائے گئے ٹیکسوں کے باعث عالمی اسٹاک مارکیٹوں کو جھٹکا ضرور لگا ہے، لیکن مقامی کمپنیوں کی آئی پی اوز پر اس کا کوئی منفی اثر نہیں پڑے گا۔ انہوں نے اسے "بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا معاملہ” قرار دیا۔
ان کے بقول، خلیج میں صرف مخصوص صنعتوں جیسے ایلومینیم پر 10 فیصد ٹیرف عائد ہے اور مجموعی طور پر یو اے ای اس کا مثبت فائدہ اٹھا سکتا ہے کیونکہ دیگر ممالک کی کمپنیاں یہاں منتقل ہونے پر غور کر سکتی ہیں۔
2024 کے منافع میں 21 فیصد اضافہ دبئی انویسٹمنٹس نے مالی سال 2024 کے اختتام تک شیئر ہولڈرز کے لیے قبل از ٹیکس خالص منافع 1.3 ارب درہم حاصل کیا، جو پچھلے سال کے مقابلے میں 21 فیصد زیادہ ہے۔ کمپنی کی مجموعی آمدنی 4.66 ارب درہم رہی، جس کی بڑی وجہ رأس الخیمہ کے المرجان آئی لینڈ پر واقع دانہ بے پراجیکٹ کی مؤثر تکمیل اور رئیل اسٹیٹ کی طلب میں اضافہ رہا۔
کلبان نے بتایا کہ اگر 270 ملین درہم کی مخصوص مالیاتی کٹوتیاں نہ کرنی پڑتیں تو کمپنی کا منافع 1.6 ارب درہم سے تجاوز کر جاتا۔
2025 کے آغاز سے ہی مثبت اشارے انہوں نے انکشاف کیا کہ 2025 کی پہلی سہ ماہی کے ابتدائی مالیاتی نتائج گزشتہ سال کے مقابلے میں 20 فیصد بہتر ہیں، اور پورا سال مثبت انداز میں مکمل ہونے کی امید ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ متعدد منصوبے زیر غور ہیں جن کی تفصیلات منظوری کے بعد ظاہر کی جائیں گی۔
رئیل اسٹیٹ اور صحت کے شعبوں میں توسیع خالد بن کلبان کے مطابق دبئی انویسٹمنٹس رئیل اسٹیٹ اور ہیلتھ کیئر کے شعبوں میں جارحانہ توسیع کے منصوبے رکھتی ہے۔ کمپنی نے رأس الخیمہ میں آر اے کے سنٹرل کے قریب 3.5 لاکھ مربع فٹ زمین خریدی ہے جہاں 20 سے 25 منزلہ ٹاورز تعمیر کیے جائیں گے۔ دیگر امارات میں بھی زمینوں کی خریداری پر بات چیت جاری ہے۔
انہوں نے کہا کہ دبئی میں آفس ٹاورز کی شدید طلب ہے، اور ایک سرمایہ کار نے تو پورا ٹاور خریدنے میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔
ہیلتھ کیئر کے میدان میں کمپنی کی ذیلی ادارہ گلوبل فارما مقامی و بین الاقوامی سطح پر توسیع کر رہا ہے۔ کمپنی کنگز ہسپتال میں تقریباً 35 فیصد حصص رکھتی ہے، جو خود بھی توسیعی منصوبوں پر کام کر رہا ہے، اور مزید اسپتال خریدنے یا موجودہ اسپتالوں کو وسعت دینے کی کوششیں جاری ہیں۔






