
خلیج اردو
دبئی میٹرو بلیو لائن کے آغاز کے بعد دبئی میں روزمرہ سفر کے انداز میں بڑی تبدیلی کی توقع ظاہر کی جا رہی ہے، جس سے ٹریفک میں تقریباً 20 فیصد کمی آنے کا امکان ہے۔
یہ منصوبہ دبئی کے اہم رہائشی اور تجارتی علاقوں کو بہتر انداز میں جوڑنے کیلئے بنایا گیا ہے، جس سے خاص طور پر دور دراز علاقوں کے رہائشیوں کو بڑا فائدہ ہوگا۔
اس وقت انٹرنیشنل سٹی، ورسان اور دبئی سلکان اویسس سے مرکزی کاروباری مراکز تک سفر میں ایک سے دو گھنٹے تک لگ جاتے ہیں، چاہے گاڑی ہو یا پبلک ٹرانسپورٹ۔
ماہرین کے مطابق روزانہ ہزاروں افراد کو لمبے سفر، ٹریفک جام اور متعدد ٹرانسفرز کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جس سے ان کا کافی وقت ضائع ہوتا ہے۔
مثال کے طور پر انٹرنیشنل سٹی سے بزنس بے یا فنانشل ڈسٹرکٹ تک پہنچنے کیلئے بس اور میٹرو کا امتزاج استعمال کرنا پڑتا ہے، جس میں ایک گھنٹے سے زائد وقت لگ جاتا ہے۔
اسی طرح دبئی سلکان اویسس سے جی ایل ٹی دبئی تک سفر بھی 90 منٹ سے دو گھنٹے تک پہنچ جاتا ہے، خاص طور پر رش کے اوقات میں۔
بلیو لائن کے بعد ان راستوں میں براہ راست اور تیز رابطہ فراہم کیا جائے گا، جس سے سفر کا وقت تقریباً نصف رہ جانے کی توقع ہے۔
ماہرین کے مطابق نئی میٹرو لائن کے باعث نہ صرف ٹریفک دباؤ کم ہوگا بلکہ شہریوں کو زیادہ قابلِ اعتماد اور کم پریشان کن سفری نظام بھی میسر آئے گا۔
رپورٹس کے مطابق اس منصوبے کے بعد وہ سفر جو پہلے ایک گھنٹے سے زائد لیتے تھے، وہ 30 سے 40 منٹ تک محدود ہو سکتے ہیں۔
یہ تبدیلی دبئی میں ہاؤسنگ ترجیحات، کرایوں اور ورک لائف بیلنس پر بھی اثر ڈال سکتی ہے، کیونکہ بہتر ٹرانسپورٹ کے باعث دور دراز علاقوں کی کشش مزید بڑھ جائے گی۔







