
خلیج اردو
راس الخیمہ: 22 مئی — راس الخیمہ ویٹ لاس چیلنج 2025 کے مجموعی فاتح کے طور پر بدھ کے روز دبئی کے 31 سالہ رہائشی امرتھ راج کو اعزاز دیا گیا، جنہوں نے 45.7 کلو وزن کم کر کے 13,800 درہم انعام حاصل کیا۔ دوسری جانب خواتین کی کیٹیگری میں پاکستانی نژاد دبئی کی رہائشی اسپینا غطائی محمد یعقوب نے 25 کلو وزن کم کر کے پہلی پوزیشن حاصل کی۔
منتظمین کے مطابق اس سال چیلنج میں ملک بھر سے ریکارڈ 24,289 افراد نے حصہ لیا، جو اس مہم کی اب تک کی سب سے بڑی کامیابی ہے۔
امرتھ راج، جو خوراک کی صنعت سے وابستہ ہیں، نے بتایا کہ ان کا وزن سال کے آغاز پر 225 کلو سے زائد تھا، اور انہوں نے چند ماہ میں 45.7 کلو کم کر کے ایک نمایاں کارنامہ انجام دیا۔ ان کے بقول: "یہ سفر میری اہلیہ کے لیے تھا، جنہوں نے میرے وزن کے باوجود مجھ سے شادی کی۔ میری ماں، جو بھارت میں ڈائلیسس کے عمل سے گزر رہی ہیں، ہمیشہ مجھے وزن کم کرنے کا کہتی تھیں۔ ان کے الفاظ میرے ساتھ رہے۔”
اپنی نوکری کے چیلنجز بیان کرتے ہوئے راج نے کہا کہ "میں ہمیشہ ریستورانوں میں ہوتا ہوں، جہاں مفت کھانا دستیاب ہوتا ہے، لیکن میں نے خود پر قابو رکھا اور ہر موقع پر اپنے ہدف کو یاد رکھا۔”
انہوں نے مزید کہا کہ وزن کم کرنا صرف دماغی قوت اور یکسوئی کا کھیل ہے۔ تاہم وہ سمجھتے ہیں کہ ان کا سفر ابھی مکمل نہیں ہوا: "میں اب بھی موٹاپے کی کیٹیگری میں ہوں، اور اگلے سال ایک بہتر شرکت کی امید رکھتا ہوں۔”
دوسری طرف خواتین کی فاتح اسپینا غطائی محمد یعقوب نے بتایا کہ یہ صرف ایک مقابلہ نہیں، بلکہ ان کے لیے زندگی بدلنے والا تجربہ تھا۔ ان کا کہنا تھا: "پہلے میں صرف بیٹھی رہتی تھی اور کھاتی رہتی تھی، لیکن راس الخیمہ ہسپتال سے ملی تحریک نے مجھے بدل دیا۔”
ان کے بھائی نے ان سے چیلنج لیا کہ اگر وہ 25 کلو وزن کم کریں گی تو تحفہ ملے گا، اور وہ اس ہدف کو حاصل کرنے میں کامیاب رہیں۔ انہوں نے مختلف مراحل میں ڈائٹ کا طریقہ کار اپنایا، جس میں ابتدائی صاف غذا، انٹرمیٹنٹ فاسٹنگ، ایک وقت کا کھانا (OMAD)، اور آخر میں پانی کا روزہ شامل تھا۔
یعقوب نے بتایا کہ وزن زیادہ ہونے کی وجہ سے انہیں گھٹنوں میں درد رہتا تھا اور وہ طبی ٹیسٹ سے بھی ڈرتی تھیں۔ "میری صحت بہتر ہو گئی ہے، اب گھٹنوں کا درد نہیں ہے، اور روزمرہ کے کام آسان ہو گئے ہیں۔”
دیگر کیٹیگریز کے فاتحین
فیملی کیٹیگری میں رنر اپ بننے والے نیاز حمزہ پراپپلاتھ اور ان کے خاندان نے بتایا کہ انہوں نے اجتماعی طور پر حصہ لیا، ایک واٹس ایپ گروپ بنایا، جہاں روزانہ کی پیش رفت شیئر کی جاتی تھی، اور یہی حوصلہ افزائی کا ذریعہ بنی۔
یہ صحت مند طرز زندگی کو فروغ دینے والا چیلنج راس الخیمہ ہسپتال اور وزارت صحت و تحفظ (MOHAP) راس الخیمہ کے تعاون سے منعقد ہوا، جس کا اختتام ہسپتال میں ایک رنگا رنگ تقریب پر ہوا، جس میں اہم شخصیات، طبی ماہرین اور سرپرست شریک ہوئے۔
اس سال کے مقابلے نے تمام سابقہ ریکارڈ توڑ دیے، جس میں متحدہ عرب امارات کے مختلف حصوں سے افراد، خاندانوں، کارپوریٹ ٹیمز اور اسکول کمیونٹیز نے بھرپور شرکت کی، اور صحت و تندرستی کے لیے ایک قومی عزم کی عکاسی کی۔






