خلیج اردو آن لائن:
اتوار کے روز دبئی مرینا کے رہائشیوں کو ایک انوکھا منظر اس وقت دیکھنے کو ملا جب ہیلی کاپٹر کے ذریعے چیتے اور بن مانس کے بڑے مجسموں کو لے جاتے دیکھا گیا۔ اس منظر کی ویڈیوز سوشل میڈٰیا پر وائرل ہوئیں تو اسے "یہ صرف دبئی میں ممکن ہے” کے نام دیا گیا۔ اور اس حوالے سے سوشل میڈٰیا صارفین نے مختلف تبصرے شروع کر دیے۔
لیکن لوگ اس حوالے سے لا علم تھے در اصل ان مجسموں کو ہیلی کاپٹروں کے ذریعے کہاں لے جایا جا رہا ہے۔ ایسے صارفین کو ہم بتانا چاہتے ہیں کہ چیتے اور بن مانس کے ان مجسموں کو دراصل دبئی مرینا کے سومیا پول کلب اور لاؤنج میں رکھنے کے لیے لےجایا جا رہا تھا۔
چونکہ دبئی مرینا ہوٹل کے چھت کو شہری جنگل کی طرز پر تیار کیا جا رہا ہے۔ اس لیے بن مانس اور چیتے کے مجسموں کو اس جنگل میں رکھنے کے لیے لے جایا جا رہا تھا۔
Is it a bird? Is it a plane? Nope. It is King Kong flying past your window on a Sunday morning 🤷🏻♂️ pic.twitter.com/9SxugsjqWw
— Mike Townsend (@mikeoftownsend) September 13, 2020
بن مانس کا نام کانگ رکھا گیا ہے اور اسے ایسی جگہ پر نسب کیا گیا ہے کہ مہمان اس کے ساتھ سیلفی بنا سکیں گے۔
جبکہ چیتےکےمجسمے کو انفینٹٰی پول کے کنارے رکھا گیا ہے جو مناظر میں خوبصورتی بھرے گا۔
https://www.instagram.com/p/CFEzFpCJfHg/?utm_source=ig_web_copy_link
سومیا گروپ کے مینجنگ ڈائریکٹر یوان گریلیٹ کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ ” ادریس بی جیسے فنکار کے فن پاروں کا انتخاب انکے جدید تخلیقی صلاحیتوں کی وجہ کیا گیا ہے۔ اور یہ ہمارے وینیو کے ساتھ مطابق رکھتے ہیں۔ اور ہم چاہتے تھے کہ یہ لاثانی مجسمے ہمارے شہری جنگل کو زندہ کردیں”۔
خیال رہے کہ ان مجسموں ہیلی کاپٹر کے ذریعے اپنے مقام تک پہچانا آسان نہیں تھا۔ کیونکہ یہ مجسمے بے داغ سٹیل اور لوہے سے تیار کیے گئے ہیں۔ اور چیتے پر سونے پانی بھی پھیرا گیا ہے جس کا وزن تقریبا 1 ٹن اور بن مانس کے مجسمے کا وزن 6 سو کلو گرام ہے۔
ان فن پاروں کو ہوٹل تک لانے کے لیے سومیا گروپ نے وی شیپ سپیسز نامی کمپنی سے رابطہ کیا جس نے یہ تمام مراحل کو سرانجام دیا تھا۔
وی شیپ سپیسز کمپنی نے سب سے پہلے مجسموں کو انکی منزل تک پہنچانے کے لیے کرینوں کی مدد لینے کی کوشش کی لیکن اس سے اخراجات اور عمل پیچدہ ہونے کا خطرہ دیکھ کر اس پروگرام کو کینسل کر کے مجسموں کو ہیلی کاپٹر کے ذریعے لایا گیا۔
یاد رہے کہ اس سے پہلے 2013 میں ایف ون کار برج العرب کی چھت پر ہیلی کاپٹر کی مدد سے لیجائی گئی تھی۔
ہیلی کاپٹر سے چیزوں کو ایک جگہ سے دوسری جگہ لیجانے کے لیے حکام کی اجازت لینی ہوتی ہے اور اس سے پہلے تمام تحقیق کی جاتی ہے۔
Source: The National







