
خلیج اردو: متحدہ عرب امارات نے اسکول داخلہ پالیسی میں اہم تبدیلی کی ہے، جس کے تحت بچے اب پری-کنڈرگارٹن میں تین سال کی عمر تک داخل ہو سکتے ہیں، بشرطیکہ وہ داخلہ سال کے دوران 31 دسمبر تک تین سال کے ہو جائیں۔ یہ فیصلہ ایجوکیشن، ہیومن ڈیولپمنٹ اور کمیونٹی ڈیولپمنٹ کونسل نے منظور کیا ہے اور اس کے ساتھ اب عمر کی حد 31 اگست سے بڑھا کر 31 دسمبر کر دی گئی ہے، تاکہ اسکول کا آغاز اگست یا ستمبر میں ہونے والے تعلیمی سال کے مطابق بچوں کی اہلیت کا تعین کیا جا سکے۔
نئی پالیسی کے تحت اب تمام وہ بچے جو اسی سال جنوری سے دسمبر کے درمیان پیدا ہوئے ہیں، اگر داخلہ سال کے آخر تک مطلوبہ عمر کو پہنچ جائیں، تو اسکول میں داخلہ کے اہل ہوں گے۔ نئی عمر کی شرائط کے مطابق:
-
پری-KG: 3 سال
-
KG1: 4 سال
متعلقہ مضامین / خبریں -
KG2: 5 سال
-
گریڈ 1: 6 سال
یہ تبدیلی خاص طور پر ستمبر سے دسمبر کے درمیان پیدا ہونے والے بچوں کے لیے اہم ہے، جو پہلے اکثر ایک اضافی سال انتظار کرنے پر مجبور ہوتے تھے اور اپنی کلاس میں سب سے بڑے ہو جاتے تھے۔
دبئی کے رہائشی موسی عبدالکریم نے بتایا کہ ان کے بیٹے کی پیدائش ستمبر 2022 میں ہوئی تھی، اور پرانے قوانین کے تحت انہیں KG1 میں داخل ہونے کے لیے اگلے سال کا انتظار کرنا پڑتا، جس کے باعث وہ اپنی بیوی اور بچوں کو اردن بھیجنے پر مجبور ہو جاتے۔ نئی پالیسی کے بعد ان کا خاندان اب متحدہ عرب امارات میں رہائش جاری رکھے گا۔
اسی طرح، UAE کی شہری علیا الکتبی نے بتایا کہ ان کے بیٹے نے صرف تین دن کی کمی کی وجہ سے پہلے قوانین کے تحت اسکول میں داخلہ نہیں لے سکتا تھا، اور نئی پالیسی نے والدین کو بچوں کے حق میں ایک منصفانہ موقع فراہم کیا ہے۔
ماہرین تعلیم اور والدین کا کہنا ہے کہ اگرچہ داخلہ اب جلدی ممکن ہے، لیکن بچوں کی جذباتی اور سماجی تیاری بھی ضروری ہے۔ دبئی کی رہائشی بھاویا راؤ نے اپنی چھوٹی بیٹی کو فوراً داخل نہ کروانے کا فیصلہ کیا تاکہ وہ جذباتی طور پر تیار ہو جائے۔
GEMS گروپ کی چیف ایجوکیشن آفیسر لیزا کروسبی نے کہا کہ نئے قوانین کے تحت بھی ہر بچے کی سماجی، جذباتی اور جسمانی تیاری پر توجہ دی جائے گی، اور پہلے 6-8 ہفتوں کے دوران بچوں کی نگرانی کی جائے گی تاکہ وہ آرام دہ ماحول میں تعلیم حاصل کر سکیں۔
ماہرین طب کے مطابق، تھوڑا سا پہلے یا بعد میں اسکول شروع کرنے سے طویل مدتی نقصان نہیں ہوتا، تاہم چھوٹے بچوں کو ابتدائی مدد کی ضرورت ہو سکتی ہے۔ ماہر نفسیات ڈاکٹر سنہا جان نے کہا کہ بچوں کی سماجی اور جذباتی مہارتیں اسکول میں کامیابی کے لیے سب سے اہم پیش گو ہیں، اور جذباتی طور پر تیار نہ ہونے والے بچوں میں اضطراب، توجہ مرکوز کرنے میں مشکل، اور جارحیت کے مسائل دیکھے جا سکتے ہیں۔







