متحدہ عرب امارات

دبئی میں خودکار گاڑیوں کی تعیناتی کا روڈ میپ، 60 سے زائد گاڑیاں روڈ میپنگ کے لیے مختص، 65 زونز میں آزمائشی سروس شروع ہوگی

خلیج اردو
دبئی — دبئی میں خودکار ٹیکسیوں کی تعیناتی کے پہلے مرحلے میں 60 سے زائد گاڑیاں سڑکوں کی نقشہ سازی، ڈیٹا جمع کرنے اور راستوں کی اسکیننگ کے لیے تعینات کی جائیں گی، جب کہ دوسرے مرحلے میں دبئی کے مختلف حصوں میں 65 مخصوص زونز میں آزمائشی آپریشن کا آغاز کیا جائے گا۔

اس منصوبے کے تحت خودکار گاڑیوں کی تعیناتی کا روڈ میپ ولی عہد اور دبئی ایگزیکٹو کونسل کے چیئرمین شیخ حمدان بن محمد بن راشد المکتوم کو روڈز اینڈ ٹرانسپورٹ اتھارٹی (RTA) کے ڈائریکٹر جنرل مطر الطائر کی جانب سے پیش کیا گیا۔

آزمائشی زونز کا انتخاب کئی معیارات کی بنیاد پر کیا جائے گا، جن میں دبئی کی اعلیٰ سطح کی سڑکوں کی سلامتی کو بنیادی اہمیت دی جائے گی۔ اس سروس کا باقاعدہ آغاز 2026 کی پہلی سہ ماہی میں متوقع ہے۔

گزشتہ ماہ RTA نے خودکار ٹیکسی آپریشن میں مہارت رکھنے والی تین بین الاقوامی کمپنیوں — اوبر ٹیکنالوجیز، وی رائیڈ (WeRide) اور چین کی بیدو (Baidu) — کے ساتھ شراکت داری کے معاہدے بھی کیے ہیں۔

یہ منصوبہ دبئی کی Self-Driving Transport Strategy کا ایک اہم سنگ میل ہے، جس کا مقصد 2030 تک شہر میں 25 فیصد سفری سرگرمیوں کو خودکار ذرائع پر منتقل کرنا ہے۔ مطر الطائر کے مطابق خودکار گاڑیاں سڑکوں کی حفاظت بہتر بناتی ہیں کیونکہ 90 فیصد سے زائد ٹریفک حادثات انسانی غلطی کی وجہ سے ہوتے ہیں۔ یہ گاڑیاں معمر شہریوں، رہائشیوں اور خصوصی افراد کے لیے بھی انتہائی مفید ثابت ہوں گی۔

جدید ٹیکنالوجی کا استعمال

شیخ حمدان کو RTA کی جانب سے ان اہم سڑک منصوبوں پر بھی بریفنگ دی گئی جن کا مقصد دبئی میں ٹریفک کے بہاؤ کو بہتر بنانا ہے۔ ان منصوبوں کی نگرانی میں سمارٹ ٹیکنالوجی کا استعمال کیا جا رہا ہے، جن میں ڈرونز اور مصنوعی ذہانت (AI) شامل ہیں۔ ڈرونز تعمیراتی ترقی کا ڈیٹا جمع کرتے ہیں اور AI کے ذریعے تعمیراتی رفتار کو ٹریک کیا جاتا ہے۔

یہ ٹیکنالوجیز نہ صرف آپریشنل کارکردگی کو بہتر بناتی ہیں بلکہ فیصلہ سازی میں بھی تیزی لاتی ہیں اور درست معلومات تک فوری رسائی فراہم کرتی ہیں۔ ان کی مدد سے تعمیراتی سائٹس پر نگرانی دگنی ہو چکی ہے جب کہ فیلڈ سروے کے وقت میں 60 فیصد کمی آئی ہے۔

مزید برآں، ٹائم لیپس امیجنگ کے ذریعے 24 گھنٹے تعمیراتی سرگرمیوں کی نگرانی کی جا رہی ہے، جس سے منصوبہ جاتی نگرانی میں 40 فیصد بہتری اور ممکنہ مسائل کی جلد نشاندہی کے ذریعے تاخیر میں 20 فیصد کمی ہوئی ہے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button