
خلیج اردو
دبئی میں قائم امارات گروپ نے خطے میں امریکا، اسرائیل اور ایران کے درمیان کشیدگی اور فضائی آپریشنز میں رکاوٹوں کے باوجود مالی سال 2025-26 کے دوران ریکارڈ منافع حاصل کر لیا۔ گروپ نے قبل از ٹیکس 24.4 ارب درہم منافع رپورٹ کیا جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 7 فیصد زیادہ ہے جبکہ آمدن 150.5 ارب درہم تک پہنچ گئی۔
امارات گروپ کے مطابق کمپنی کے نقد اثاثے بڑھ کر 59.6 ارب درہم ہو گئے جبکہ مستقبل کی صلاحیتوں میں سرمایہ کاری کیلئے 340 ارب درہم مختص کیے گئے ہیں۔ فروری کے آخر میں ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں اور اس کے بعد خطے میں میزائل و ڈرون حملوں کے باعث خلیجی فضائی پروازیں متاثر ہوئی تھیں۔
گروپ نے اپنی مالک کمپنی انویسٹمنٹ کارپوریشن آف دبئی کو 3.5 ارب درہم ڈیویڈنڈ دینے کا اعلان بھی کیا۔ متحدہ عرب امارات میں نئے عالمی ٹیکس قوانین کے تحت کارپوریٹ ٹیکس شرح 9 فیصد سے بڑھ کر 15 فیصد ہو گئی، جس کے بعد بعد از ٹیکس منافع 21 ارب درہم ریکارڈ کیا گیا۔
چیئرمین اور چیف ایگزیکٹو شیخ احمد بن سعید المکتوم نے کہا، "مالی سال کے آخری مہینے میں شدید چیلنجز کے باوجود یہ شاندار نتائج امارات گروپ کے مضبوط اور مستحکم کاروباری ماڈل کا ثبوت ہیں۔” انہوں نے کہا کہ دبئی عالمی تجارت، سفر اور کاروبار کا اہم مرکز بنا ہوا ہے۔
مالی سال کے دوران گروپ نے نئے طیاروں، جدید ٹیکنالوجی، سہولیات اور آلات پر 17.9 ارب درہم کی سرمایہ کاری کی۔ امارات ایئرلائن نے دنیا کی سب سے زیادہ منافع بخش فضائی کمپنی کا اعزاز برقرار رکھا اور 19.7 ارب درہم بعد از ٹیکس منافع حاصل کیا، جو اس کی تاریخ کا سب سے بڑا منافع قرار دیا گیا۔
امارات ایئرلائن کی آمدن 130.9 ارب درہم رہی جبکہ سال بھر میں 5 کروڑ 32 لاکھ مسافروں نے سفر کیا۔ ایندھن اور ملازمین کے اخراجات سب سے بڑے مالی بوجھ رہے تاہم عالمی ایندھن قیمتوں میں کمی سے کمپنی کو فائدہ پہنچا۔
لندن میں قائم اسٹریٹیجک ایرو ریسرچ کے چیف تجزیہ کار ساجد احمد کے مطابق امارات کے پاس مضبوط نقد ذخائر موجود ہیں جو ایندھن قیمتوں میں اتار چڑھاؤ سے تحفظ فراہم کرتے ہیں۔ ان کے مطابق بوئنگ 777 ایکس طیاروں کی تاخیر نے بھی کمپنی کو خطے کی غیر یقینی صورتحال میں خطرات کم کرنے میں مدد دی۔
دوسری جانب ڈی این اے ٹی اے کا بعد از ٹیکس منافع 1.3 ارب درہم رہا، جو زیادہ ٹیکس شرح کے باعث 4 فیصد کم ریکارڈ کیا گیا۔ ماہرین کے مطابق علاقائی کشیدگی کے باوجود امارات گروپ کی مالی کارکردگی خلیجی معیشت اور دبئی کے عالمی ہوابازی مرکز ہونے کی عکاس ہے۔







