
خلیج اردو
03 اکتوبر 2021
اسلام آباد : پاکستان میں وفاقی وزیر برائے اطلاعات اور نشریات چوہدری فواد حسین نے کہا ہے کہ اس ٹیکنالوجی کے دور میں کمپنیاں ایک دوسرے کے خلاف پروپیگنڈا کررہی ہیں، ان کی آپس کی لڑائیوں سے عدلیہ کو دور رہنا چاہیئے۔
اپنے ایک ٹویٹ میں چوہدری فواد نے سندھ ہائیکورٹ کی جانب سے ٹک ٹاک پر عائد پابندی کو ختم کرنے کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ دنیا میں اس وقت ٹیکنالوجی کی جنگ چل رہی ہے کمپنیاں ایکدوسرے کے خلاف پراپیگنڈا کر رہی ہیں ہمارے ریگولیٹری ادارے اور جج صاحبان کو اس لڑائ سے علیحدہ رہنا چاہئے اور جو پاکستان میں سرمایہ کاری کرے اسے خوش آمدیدکہیں۔
خوشی ہے کہ سندہ ہائیکورٹ نے TikTok پر پابندی کا فیصلہ واپس لے لیا ہے، دنیا میں اس وقت ٹیکنالوجی کی جنگ چل رہی ہے کمپنیاں ایکدوسرے کے خلاف پراپیگنڈا کر رہی ہیں ہمارے ریگولیٹری ادارے اور جج صاحبان کو اس لڑائ سے علیحدہ رہنا چاہئے اور جو پاکستان میں سرمایہ کاری کرے اسے خوش آمدیدکہیں
— Ch Fawad Hussain (@fawadchaudhry) July 2, 2021
سندھ ہائیکورٹ نے اس سے قبل ویڈیو شیئرنگ اپلیکیشن ٹک ٹاک پر پابندی عائد کی تھی جس کے خلاف ویزر موصوف اور دیگر سوشل میڈیا صارفین نے آواز بلندی کی تھی۔
پاکستان میں ٹک ٹاک کو اس سے پہلے بھی ریگولیٹری اتھارٹی پی ٹی اے اور پشاور ہائیکورٹ کی جانب سے پابندی کا سامنا رہا ہے۔ عوامی سطح پر اس حوالے سے قبولیت عام نہیں ہے۔ اپلیکیشن پر شیئر ہونا والا مواد اور بعض کیسز میں ویڈیو بناتے وقت صارفین کی ہلاکت کو جواز بنا کر چینی اپلیکیشن کو تنقید کا سامنا رہتا ہے۔
تاہم چوہدری فواد جو اس سے قبل سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے وزیر رہے ہیں ، اس طرح کی پابندیوں کی مخالفت کرتے آئے ہیں۔ وفاقی وزیر کی جانب سے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کی وزارت میں مختلف اصلاحات سمیت چاند دیکھنے سے متعلق ایک اپلیکیشن بنانے کا اقدام ترقی پسند حلقوں کی جانب سے سراہا گیا ہے۔







