
خلیج اردو
منیلا: فلپائن میں ایک وی لاگر کو صدر کے خلاف مبینہ طور پر اشتعال انگیزی اور سنگین دھمکی دینے کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا۔ یہ کارروائی اس کی فیس بک پوسٹ کے بعد عمل میں آئی جسے حکام نے صدر کے قتل کی بالواسطہ دھمکی قرار دیا۔
قومی تحقیقاتی ادارے (این بی آئی) کے مطابق، وی لاگر مائیکل ’’مائیک‘‘ رومیرو نے 3 اکتوبر کو ایک تصویر شیئر کی تھی جس میں صدر فرڈیننڈ مارکوس زلزلے سے متاثرہ شہر بوگو کے ہال کے باہر دیگر حکام کے ساتھ کھڑے دکھائی دے رہے تھے۔ تصویر پر ایک سرخ تیر صدر کے سر کی جانب اشارہ کر رہا تھا، جب کہ اس پر صرف ایک لفظ لکھا تھا: ’’ہیڈ شاٹ‘‘۔
ادارے کے ڈائریکٹر جیمے سینتیاگو نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ ’’قانون نافذ کرنے والے اداروں اور شوٹرز کی اصطلاح میں ‘ہیڈ شاٹ’ کا مطلب سر پر گولی مارنا ہوتا ہے، اس لیے ہم نے اس بیان کو سنجیدگی سے لیا۔‘‘
انہوں نے کہا کہ رومیرو کے خلاف اشتعال انگیزی اور سنگین دھمکی کے الزامات کے تحت مقدمہ دائر کیا جائے گا، جن کی سزا کم از کم چھ سال قید ہو سکتی ہے۔
سینتیاگو نے کہا، ’’وی لاگرز کو آزادی اظہار کا حق حاصل ہے لیکن اس کی حدود ہیں۔ جب بات صدر یا نائب صدر کو دھمکی دینے کی ہو، تو یہ آزادی کی حدود سے باہر چلی جاتی ہے۔‘‘
رپورٹس کے مطابق، رومیرو کے فیس بک پر 98 ہزار فالورز ہیں اور وہ خود کو سابق صدر روڈریگو دوتیرتے کا پکا حامی، پاپ گلوکار اور ٹیکنالوجی ماہر قرار دیتا ہے۔
گرفتاری کے بعد اس نے اپنی اصل پوسٹ حذف کر دی اور ایک نئی پوسٹ میں وہی تصویر اور تیر استعمال کرتے ہوئے نیا کیپشن لکھا: ’’سٹی ہال واقعی بہت ایکوریٹ ہے‘‘۔ یہ جملہ دراصل مقامی زبان میں طنز تھا کیونکہ ’’بوگو‘‘ کا مطلب سیبوآنو زبان میں ’’بیوقوف‘‘ یا ’’احمق‘‘ بھی ہوتا ہے۔
عالمی مانیٹرنگ تنظیم ’’آرٹیکل 19‘‘ کے مطابق، دنیا بھر میں آزادی اظہار پر پابندیاں بڑھ رہی ہیں۔ اس سال کے ’’گلوبل فریڈم آف ایکسپریشن رپورٹ‘‘ میں فلپائن 161 ممالک میں 95ویں نمبر پر ہے۔







