متحدہ عرب امارات

دبئی کے سابق پراسیکیوٹر اور ریٹائرڈ بریگیڈیئر عارف بوشاقر الفلاسی نے 9 سالہ بچی کے قتل اور اس کے مجرم کو دی گئی سزائے موت سے متعلق لرزہ خیز تفصیلات بیان کردی ہیں۔

خلیج اردو
دبئی کے سابق پراسیکیوٹر اور ریٹائرڈ بریگیڈیئر عارف بوشاقر الفلاسی نے 9 سالہ بچی کے قتل اور اس کے مجرم کو دی گئی سزائے موت سے متعلق لرزہ خیز تفصیلات بیان کردی ہیں۔

عرب کاسٹ کے پروگرام قاف نون میں گفتگو کرتے ہوئے عارف الفلاسی نے بتایا کہ انہوں نے دبئی میں دی جانے والی پہلی پھانسی کی نگرانی کی تھی، جو ان کے مطابق 1996 یا 1997 میں ہوئی۔ پھانسی پانے والا شخص 9 سالہ بچی کے قتل کا مجرم قرار دیا گیا تھا۔

سابق پراسیکیوٹر کے مطابق فائرنگ اسکواڈ کی جانب سے ابتدائی گولیاں چلائے جانے کے باوجود مجرم زندہ رہا، کیونکہ ڈاکٹر نے اس کے جسم پر دل کے بجائے غلط مقام پر نشانہ لگایا تھا۔ عارف الفلاسی نے ڈاکٹر سے اس بارے میں پوچھا تو اس نے بتایا کہ یہ اس کی پہلی پھانسی تھی اور وہ صورتحال سے گھبرا گیا تھا۔

عارف الفلاسی نے بعد ازاں دوسری مرتبہ فائرنگ کا حکم دیا، جس سے مجرم کی موت واقع ہوگئی۔ تاہم پراسیکیوشن آفس واپس پہنچنے کے بعد انہوں نے قتل کیس کی فرانزک رپورٹ دیکھی تو انہیں ایک حیران کن مماثلت کا احساس ہوا۔

فرانزک رپورٹ کے مطابق بچی کے ساتھ جنسی زیادتی اور گلا گھونٹ کر قتل کیے جانے کے درمیان تقریباً 6 سے 7 منٹ کا وقفہ تھا۔ عارف الفلاسی کے مطابق مجرم کو ابتدائی فائرنگ کے بعد آخری گولی لگنے تک بھی تقریباً 7 منٹ تک زندہ رہنا پڑا۔ انہوں نے اسے مقتول بچی کے ساتھ پیش آنے والے واقعے کے تناظر میں خدائی انصاف قرار دیا۔

یہ کیس اس وقت سامنے آیا جب 9 سالہ بچی کے لاپتا ہونے کی اطلاع ملی اور دبئی پولیس نے تلاش شروع کی۔ پولیس نے سراغ رساں کتوں کی مدد بھی حاصل کی۔ کتوں نے ایک گھر کے باہر بار بار ردعمل ظاہر کیا، جس پر پولیس کو شبہ ہوا۔

پراسیکیوٹر کی اجازت سے گھر کی تلاشی لی گئی، تاہم ابتدائی طور پر وہاں سے کوئی شواہد نہیں ملے۔ کئی روز بعد بلدیاتی عملے نے ایک کچرے کے ڈبے سے بچی کی لاش برآمد کی۔

پوسٹ مارٹم اور مزید تحقیقات کے دوران پولیس ایک ایشیائی شخص تک پہنچی، جس نے جرم کے بارے میں معلومات رکھنے اور واقعہ دیکھنے کا اعتراف کیا، تاہم براہ راست قتل میں ملوث ہونے سے انکار کیا۔ تحقیقات میں سامنے آیا کہ بچی کو ایک گھر لے جایا گیا، جہاں اسے مبینہ طور پر جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد گلا گھونٹ کر قتل کیا گیا، پھر لاش کو گتے کے ڈبے میں رکھ کر پھینک دیا گیا۔

مرکزی ملزم متحدہ عرب امارات سے فرار ہوگیا تھا، تاہم بعد میں اسے گرفتار کرکے واپس لایا گیا اور مقدمہ چلایا گیا۔ مرکزی ملزم کو سزائے موت جبکہ اس کے ساتھی کو 15 سال قید کی سزا سنائی گئی۔

عارف الفلاسی نے بتایا کہ سزائے موت حتمی ہونے کے بعد وہ پراسیکیوٹر جنرل کے ہمراہ دونوں ملزمان سے جیل میں ملے۔ ساتھی ملزم نے دعویٰ کیا کہ اس نے صرف جرم ہوتے دیکھا تھا اور قتل نہیں کیا، جبکہ قرآن پر حلف دیتے ہوئے مرکزی ملزم کو قتل کا ذمہ دار قرار دیا اور اپنی سزا کو ناانصافی کہا۔

عارف الفلاسی کے مطابق اس وقت کے طریقہ کار کے تحت سزائے موت دبئی کے الرویہ علاقے میں فائرنگ اسکواڈ کے ذریعے دی گئی۔ بچی کی والدہ بھی مقام پر موجود تھیں، تاہم پھانسی صرف مجاز حکام نے دیکھی۔

سابق پراسیکیوٹر نے بتایا کہ سزا پر عمل درآمد سے قبل انہوں نے بچی کی والدہ سے پوچھا کہ آیا وہ مجرم کو معاف کرنا چاہتی ہیں یا سزا پر عمل درآمد چاہتی ہیں۔ والدہ نے جواب دیا کہ وہ چھ ماہ تک سکون سے سو نہیں سکی تھیں اور اس دن کا انتظار کرتی رہی تھیں۔ ابتدائی گولیاں چلنے کے بعد وہ اپنے ڈرائیور کے ہمراہ وہاں سے چلی گئیں۔

عارف الفلاسی نے کہا کہ اس کیس نے انہیں تفتیش کے ابتدائی شواہد پر توجہ دینے اور فرانزک رپورٹس کا باریک بینی سے جائزہ لینے کی اہمیت سکھائی، خصوصاً ایسے مقدمات میں جہاں سزائے موت کا امکان موجود ہو۔ ان کے مطابق پولیس کے سراغ رساں کتوں کے ابتدائی ردعمل کو زیادہ سنجیدگی سے لیا جاتا تو تفتیش میں کئی دن بچائے جا سکتے تھے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button