
خلیج اردو
دبئی، 22 جولائی 2025
دبئی کے بلند و بالا آسمانوں اور عالمی معیار کی ترقی کے درمیان، شیخ محمد بن راشد المکتوم کی عاجزی اور عوام سے قربت ان کی قیادت کا سب سے پراثر پہلو بن چکی ہے۔ متحدہ عرب امارات کے نائب صدر، وزیر اعظم اور دبئی کے حکمران نہ صرف اپنی وژنری قیادت کے لیے جانے جاتے ہیں بلکہ اپنے عوام سے سچے تعلق کے باعث بھی دنیا بھر میں منفرد مقام رکھتے ہیں۔
منگل کے روز دبئی کے مصروف علاقے دیرۃ میں جب ان کی گاڑی گزر رہی تھی تو راہگیر اور دکان دار خوشی سے جھوم اٹھے۔ لوگ اپنی دکانوں سے باہر نکل آئے اور سڑک کنارے کھڑے ہو کر ان کا دیدار کیا۔ بعدازاں، شیخ محمد المکتوم المیناء الحمریہ پورٹ پہنچے، جہاں انہوں نے بندرگاہ کے توسیعی منصوبے کا جائزہ لیا۔ اس منصوبے کے تحت 700 میٹر لمبی نئی کواے تعمیر کی جائے گی، جو 12 میٹر گہرے پانی کے جہازوں کو سنبھالنے کی صلاحیت رکھے گی، اور بندرگاہ کی کارگو صلاحیت میں نمایاں اضافہ ہوگا۔
یہ توسیع 2024 کی اس توسیع کا تسلسل ہے جس میں 1,150 میٹر کواے وال تعمیر کی گئی تھی اور برتھنگ کی گنجائش میں زبردست اضافہ ہوا تھا۔
اسی دن، شیخ محمد المکتوم کو مال آف دی ایمیریٹس میں چہل قدمی کرتے اور ایک چاکلیٹ کی دکان سے باہر آتے ہوئے دیکھا گیا۔ وہ دیرۃ مارکیٹ بھی گئے، جہاں شدید گرمی کے باوجود انہوں نے عوام سے ملاقات کی۔
شیخ محمد کی عوامی مقامات پر بغیر کسی بھاری سیکیورٹی پروٹوکول کے موجودگی ان کی سادگی اور خوداعتمادی کی واضح عکاسی کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ متحدہ عرب امارات کو دنیا کا محفوظ ترین ملک قرار دیا جاتا ہے۔
ہفتے کے آغاز میں انہیں دبئی ٹرام میں سفر کرتے ہوئے بھی دیکھا گیا، جہاں مسافروں نے انہیں پہچان کر تصاویر لیں اور ان کے ساتھ خوشی کا اظہار کیا۔
اسی طرح، دبئی مال کے معروف کیفے ’چپریانی‘ میں بھی انہیں دیکھا گیا، جہاں وہ باہر نکلتے ہوئے عوام سے گھل مل گئے اور بچوں کے ساتھ تصویریں کھنچوائیں۔
شیخ محمد بن راشد کی یہ عوامی اور عاجزانہ اندازِ قیادت دنیا بھر میں ان کے احترام کا باعث ہے۔ چاہے وہ کسی بازار میں ہوں یا کسی دل کو چھو لینے والی کہانی پر خاموشی سے ردعمل دے رہے ہوں، ان کا ہر عمل شفقت اور عوامی وابستگی سے بھرپور ہوتا ہے۔







