متحدہ عرب امارات

امارات میں منشیات جرائم سے بچوں سے جنسی رغبت کے مسائل، حالیہ ہفتوں میں نافذ کیے گئے سات نئے قوانین

خلیج اردو
ابوظبی: متحدہ عرب امارات نے حالیہ ہفتوں کے دوران مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد کے تحفظ کے لیے متعدد نئے قوانین نافذ کیے ہیں، جن کے تحت جرائم پیشہ سرگرمیوں کے خلاف سزائیں مزید سخت کی گئی ہیں۔ ان قوانین کا مقصد معاشرے کا تحفظ، عدالتی و انتظامی نظام کو بہتر بنانا، اور صحت و مالیاتی شعبوں میں نمایاں اصلاحات متعارف کرانا ہے۔

نئے قوانین کے تحت جنسی زیادتی اور کم عمر افراد کے تحفظ سے متعلق ضوابط کو مزید سخت کیا گیا ہے۔ قانون کے مطابق 18 سال سے زائد عمر کا کوئی بھی فرد 18 سال سے کم عمر لڑکی یا ہم جنس فرد کے ساتھ جنسی تعلق قائم نہیں کر سکتا، چاہے رضامندی کا دعویٰ ہی کیوں نہ کیا جائے۔ ایسی صورت میں کم از کم دس سال قید اور ایک لاکھ درہم جرمانہ مقرر کیا گیا ہے۔ سولہ سال سے کم عمر متاثرہ فرد کی رضامندی کو تسلیم نہیں کیا جائے گا، جبکہ نابالغ افراد کے درمیان معاملات جووینائل قوانین کے تحت نمٹائے جائیں گے۔ فحاشی یا جسم فروشی پر اکسانے کے جرائم پر بھی سخت سزائیں مقرر کی گئی ہیں، اور اگر متاثرہ فرد نابالغ ہو تو سزا میں مزید اضافہ ہوگا۔

منشیات سے متعلق قانون میں بھی نمایاں تبدیلیاں کی گئی ہیں۔ بغیر لائسنس نشہ آور ادویات تجویز کرنے یا فراہم کرنے والے فارمیسیوں اور ڈاکٹروں کے لیے کم از کم پانچ سال قید اور پچاس ہزار درہم جرمانہ مقرر کیا گیا ہے۔ غیر ملکی شہریوں کو منشیات کے جرائم میں سزا کے بعد ملک بدری کا سامنا کرنا ہوگا، تاہم بعض خاندانی حالات میں عدالت استثنا دے سکتی ہے۔

فوسٹر کیئر سے متعلق قانون کے تحت اب امارات میں مقیم خاندان نامعلوم والدین کے بچے کی کفالت حاصل کر سکتے ہیں، بشرطیکہ میاں بیوی کی عمر کم از کم پچیس سال ہو اور درخواست مشترکہ طور پر دی جائے۔ تیس سال سے زائد عمر کی خود کفیل خواتین بھی اس کفالت کی اہل ہوں گی۔ کفالت کرنے والوں کی نگرانی ایک خصوصی کمیٹی کرے گی اور شرائط پوری نہ ہونے کی صورت میں بچہ واپس لیا جا سکے گا۔

پرسنل اسٹیٹس قانون کے تحت خاندانی عدالتی نظام کو یکجا اور ڈیجیٹل بنانے کے لیے نئی ضوابط متعارف کرائے گئے ہیں، جن میں ثالثی، فیملی گائیڈنس، ملاقات کے حقوق، حلف نامے اور شرعی نکاح افسران سے متعلق امور شامل ہیں۔ ان اقدامات کا مقصد بچوں کے بہتر تحفظ اور خاندانی تنازعات کے بروقت حل کو یقینی بنانا ہے۔

ویٹرنری مصنوعات سے متعلق نئے قانون کے ذریعے جانوروں کے لیے استعمال ہونے والی طبی مصنوعات کی تیاری سے لے کر تقسیم تک تمام مراحل کو ایک جامع نظام کے تحت منظم کیا گیا ہے۔ جعلی، ناقص یا زائد المیعاد ویٹرنری مصنوعات کی تیاری، ذخیرہ اور فروخت پر پابندی عائد کی گئی ہے، جبکہ خلاف ورزی کی صورت میں اداروں کی بندش بھی ممکن ہوگی۔

جانوروں سے حاصل شدہ اعضا کی پیوندکاری سے متعلق قانون کے تحت غیر انسانی اعضا، تھری ڈی پرنٹڈ اعضا اور انجینیئرڈ ٹشوز کو سخت طبی و تکنیکی شرائط کے ساتھ علاج میں استعمال کی اجازت دی گئی ہے۔ اس کے لیے وزارت صحت یا مقامی اتھارٹی کی منظوری اور لائسنس لازمی ہوگا، جبکہ خلاف ورزی پر قید اور ایک لاکھ سے بیس لاکھ درہم تک جرمانہ ہو سکتا ہے۔

ویلیو ایڈڈ ٹیکس سے متعلق ترمیمی وفاقی قانون جنوری 2026 سے نافذ ہوگا، جس کا مقصد ٹیکس دہندگان کے لیے طریقہ کار کو آسان بنانا ہے۔ نئی ترامیم کے تحت ریورس چارج میکانزم میں خود انوائس جاری کرنے کی شرط ختم کر دی گئی ہے، جبکہ زائد قابلِ واپسی ٹیکس کی واپسی کے لیے پانچ سال کی مدت مقرر کی گئی ہے۔

 

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button