
خلیج اردو
منیلا — فلپائن میں طوفان کلمیگی اور سپر ٹائفون فنگ وونگ کے تباہ کن حملوں کے بعد عوام نے سوشل میڈیا پر دل دہلا دینے والی ویڈیوز شیئر کیں، جن میں پورے علاقے پانی میں ڈوبے دکھائی دیتے ہیں اور صرف چھتیں نظر آ رہی ہیں۔
اتوار کو صوبہ اسابیلا کے علاقے دیناپیگ میں سمندر کی بلند لہریں ساحل سے ٹکرا کر گھروں میں داخل ہوئیں۔ سپر ٹائفون فنگ وونگ کے باعث لاکھوں افراد کو صوبہ اورورا سے قبل از وقت محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا۔
ایک ویڈیو میں گھروں میں پانی داخل ہوتے اور درختوں کے تنے بہتے دکھائی دیتے ہیں، جبکہ پس منظر میں خوف زدہ شہریوں کی چیخیں سنائی دیتی ہیں۔
سپر ٹائفون فنگ وونگ سے قبل طوفان کلمیگی نے وسطی فلپائن کو تباہ کر دیا تھا، جس سے کم از کم 188 افراد ہلاک اور سینکڑوں لاپتہ ہوئے، یہ اس سال کا سب سے ہلاکت خیز قدرتی سانحہ بن گیا۔
سیبو شہر میں طوفان کے متاثرین نے بچاؤ کی کوششوں کی ناکامی اور بدعنوانی پر سخت تنقید کی۔ ایک ویڈیو میں خاتون اپنے خاندان کے ہمراہ چھت پر بیٹھی مدد کی منتظر نظر آتی ہے، جس نے لکھا: "ہم فائر اسٹیشن کے قریب ہیں، مگر کوئی نہیں آیا۔ یہی ہے ہمارے نظام کی حقیقت۔”
ایک اور ویڈیو میں گاڑیاں مٹیالے پانی میں بہتی دکھائی دیتی ہیں، جب کہ شہریوں نے ناقص نکاسی آب اور مبینہ جعلی منصوبوں پر حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔
لِلوان کے رہائشی ایڈ راموس کی فوٹیج میں طوفان کے دوران صبح کے وقت بجلی بند ہوتی دکھائی گئی، جب چند گھنٹوں میں سڑکیں دریا بن گئیں اور گاڑیاں تیرتی ہوئی گزرنے لگیں۔
ایک اور ویڈیو میں مقامی افراد کو رسیوں کے ذریعے گاڑی میں پھنسے آٹھ افراد کو بچاتے دیکھا گیا — ان کی یہ بہادری فلپائنی جذبہ "بیانیہان” کی علامت بن گئی۔







