
خلیج اردو
08 مارچ 2021
ریاض : سعودی وزارت تونائی کی جانب سے جاری سرکاری بیان میں کہا گیا ہے کہ مشرقی سعودی عرب میں اتوار کی صبح ڈرون سے حملہ کیا گیا۔ حملے میں دنیا کے سب سے بڑے آئل پورٹ راس تنورہ اور آرامکو کے رہائشی علاقے کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
اس بیان میں کہا گیا ہے کہ حملے کا مقصد سعودی عرب میں آرامکو تنصیبات کو نشانہ بنانا تھا۔ یہ میزائل ٓرامکو کے رہائشی علاقوں میں گرے۔
ترجمان کے مطابق میزائل اور ڈرون حملوں میں کسی قسم کا نقصان نہیں ہوا۔ ہم ان دہشتگردانہ کارروائیوں کی مذمت کرتے ہیں اور انہیں مجرمانہ عمل قرار دیا ہے۔ سعودی مملکت نے بین الاقوامی برادری اور عالمی اداروں سے مطالبہ کیا کہ وہ ان حملوں کے خلاف متحد ہوکر لاحہ عمل اپنائیں ۔ ان حملوں میں شہری آبادی اور اہم تنصیبات کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔
ترجمان نے کہا ہے کہ اس طرح کی تخریبی کارروائیوں کا نشانہ صرف سعودی عرب ہی نہیں بلکہ دنیا میں توانائی کی فراہمی ۔ سیکیورٹی، استحکام اور عالمی معیشت بھی ان کا نشانہ ہے اور ان سے پٹرولیم برآمدات، عالمی تجارت کی آزادی اور جہاز رانی کی سلامتی اور تحفظ بھی متاثر کرتی ہے‘۔
وزارت دفاع کے ترجمان برگیڈئئر جنرل ترکی المالکی نے کہا ہے کہ ناکام میزائل حملوں کا ہدف آرامکو کی تنصیبات تھیں ۔ ان میزائل حملوں کو پسپا کیا گیا اور میزائل کو مار گرایا گیا ۔
Source : Khaleej Times







