متحدہ عرب امارات

دبئی میں گھر خریدنے کے لیے ضروری نقد رقم اور مالی منصوبہ جات

خلیج اردو
دبئی میں کرایہ داری سے جائیداد کی ملکیت کی طرف منتقلی بڑھ رہی ہے، مگر رئیل اسٹیٹ ماہرین کے مطابق نوجوان خریدار اکثر ابتدائی نقد رقم اور ایسے اخراجات کا اندازہ نہیں لگاتے جو مورٹگیج سے فنڈ نہیں کیے جا سکتے۔

IAH گروپ کے بانی اور سی ای او اسماعیل الحمادی کے مطابق، عام طور پر خریدار کے پاس پراپرٹی کی قیمت کا 25 سے 30 فیصد نقد موجود ہونا چاہیے، جس میں ڈاؤن پیمنٹ (غیر ملکیوں کے لیے تقریباً 20 فیصد اور اماراتیوں کے لیے 15 فیصد) کے علاوہ دبئی لینڈ ڈیپارٹمنٹ کی فیس، ایجنٹ کمیشن، ویلیوایشن اور رجسٹریشن کے اخراجات شامل ہیں۔ مثال کے طور پر، ایک ملین درہم کی پراپرٹی کے لیے ابتدائی نقد رقم تقریباً 250,000 درہم درکار ہوگی۔

رئیل اسٹیٹ ماہرین کا کہنا ہے کہ سود کی شرح میں کمی اور طویل مدت کی ادائیگی کے باوجود سب سے بڑا چیلنج ابتدائی نقد رقم ہی ہے۔ Karma Developers کے بانی نوینت مندھانی کے مطابق، دبئی لینڈ ڈیپارٹمنٹ کی 4 فیصد فیس اور تقریباً 2 فیصد ایجنسی فیس نقد ادا کرنی ضروری ہیں۔

نوجوان خریداروں کے لیے انکم ویریفیکیشن اور کریڈٹ ہسٹری بھی مورٹگیج کی منظوری میں رکاوٹ بن سکتی ہے۔ eSunrise Capital کے سی ای او یوگیش بلوچندانی کے مطابق، بہتر مالی تعلیم اور سازگار قرضے کی سہولیات کے ذریعے اکثر نوجوان اس چیلنج سے نمٹ رہے ہیں۔

لچکدار ادائیگی کے منصوبے
پہلی بار خریداروں کے لیے ڈویلپرز نئے اور تخلیقی ادائیگی کے منصوبے پیش کر رہے ہیں:

  • تعمیر کے دوران 60/40 یا 70/30 کی ادائیگی

  • ہینڈ اوور کے بعد 2–5 سال میں 20–40 فیصد کی ادائیگی

  • 5–10 فیصد کم ابتدائی بکنگ/ڈاؤن پیمنٹ

  • رینٹ ٹو اون آپشنز، ڈویلپر کے ریکارڈ اور اسکرو پروٹیکشن کے مطابق

الحمادی کے مطابق، یہ ادائیگی کے نئے منصوبے نوجوان خریداروں میں دلچسپی بڑھانے کی بڑی وجہ ہیں، جبکہ بلوچندانی نے کہا کہ ڈویلپرز اب نوجوان خریداروں کے لیے تخلیقی اور کم ڈاؤن پیمنٹ والے منصوبے پیش کر رہے ہیں۔

نوجوان اماراتی شہری قومی ہاؤسنگ لون اور امدادی پروگراموں سے بھی فائدہ اٹھا سکتے ہیں، جبکہ غیر ملکی سرمایہ کار UAE بینکوں سے خصوصی قرضوں کے ذریعے پراپرٹی خرید سکتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ دبئی میں گھر خریدنا نوجوانوں کے لیے ممکن ہے، مگر اس کے لیے ابتدائی اخراجات، مورٹگیج کے معیار اور ادائیگی کے منصوبوں کی مکمل سمجھ ضروری ہے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button