متحدہ عرب امارات

ایرانی قیادت کا امریکی دباؤ مسترد، بحری ناکہ بندی ناکام قرار، پاکستان کو مذاکرات میں واحد ثالث تسلیم، روس کے ساتھ اسٹریٹجک تعاون جاری رکھنے کا اعلان

خلیج اردو
ایران کی اعلیٰ قیادت نے امریکہ کی ممکنہ بحری ناکہ بندی کو ناکام قرار دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ بین الاقوامی پانیوں میں کسی بھی ملک کو دباؤ ڈالنے کا حق حاصل نہیں۔

ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا کہ "بین الاقوامی پانیوں میں کوئی کسی پر دباؤ نہیں ڈال سکتا”، اور ایران اپنی خودمختاری پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گا۔

ایرانی مسلح افواج کے سربراہ امیر حاتمی نے کہا کہ ایرانی فوج پہلے سے زیادہ مضبوط اور مکمل طور پر تیار ہے۔ "ہم ملکی خودمختاری اور سلامتی کے تحفظ کیلئے ہر ممکن چیلنج کا مقابلہ کریں گے۔”

انہوں نے مزید کہا کہ سپریم لیڈر کی رہنمائی اور عوامی حمایت کے ساتھ دفاعی صلاحیتوں کو مسلسل بڑھایا جا رہا ہے تاکہ کسی بھی خطرے کا مؤثر جواب دیا جا سکے۔

ایرانی دفتر خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ امریکہ سے مذاکرات کا فیصلہ ہوا تو باضابطہ اعلان کیا جائے گا۔

ترجمان کے مطابق ایران اور امریکہ کے درمیان ممکنہ مذاکرات میں پاکستان کو واحد ثالث کی حیثیت حاصل ہے، جبکہ دیگر کئی ممالک بھی اس عمل میں مدد کی پیشکش کر چکے ہیں۔

انہوں نے امریکی کارروائی کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ "ایران پر حملہ دفاع نہیں بلکہ کھلی جارحیت ہے”، کیونکہ ایران کی جانب سے کوئی مسلح حملہ نہیں کیا گیا تھا۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ ایران اور روس کے درمیان اسٹریٹجک شراکت داری قائم ہے، جس کے تحت سیاسی، سکیورٹی اور معاشی شعبوں میں وسیع تعاون جاری ہے۔

یہ بیانات ظاہر کرتے ہیں کہ ایران نہ صرف سفارتی محاذ پر متحرک ہے بلکہ عسکری اور علاقائی اتحاد کے ذریعے اپنے مؤقف کو مزید مضبوط بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button