
خلیج اردو
متحدہ عرب امارات کے اعلیٰ عہدیدار نے انکشاف کیا ہے کہ ایران سے منسلک ہیکرز اب مصنوعی ذہانت کے جدید اوزار استعمال کرتے ہوئے یو اے ای کے خلاف پیچیدہ سائبر حملے کر رہے ہیں، جن میں وائرس تیار کرنا، نظام کی کمزوریاں تلاش کرنا اور جعلی ای میلز کے ذریعے دھوکہ دینا شامل ہے۔
یو اے ای حکومت کے سائبر سیکیورٹی سربراہ ڈاکٹر محمد الکویتی نے ایک گفتگو میں بتایا کہ "اب سائبر حملوں کی نوعیت روایتی جاسوسی سے بدل کر مصنوعی ذہانت پر مبنی تباہ کن کارروائیوں میں تبدیل ہو چکی ہے”۔ ان کے مطابق ہیکرز جدید نظام استعمال کرتے ہوئے نقصان دہ کوڈ تیار کر رہے ہیں اور حساس اداروں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔
حکام کے مطابق یو اے ای کو روزانہ پانچ لاکھ سے زائد سائبر حملوں کا سامنا ہے، جبکہ حالیہ علاقائی کشیدگی کے بعد ان حملوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ سرکاری نظام کو مکمل طور پر محفوظ رکھا جا رہا ہے، تاہم نجی شعبہ اب بھی خطرے کی زد میں ہے۔
ڈاکٹر الکویتی نے خبردار کیا کہ نقصان دہ وائرس صرف ڈیٹا چوری نہیں کرتے بلکہ مکمل طور پر مٹا بھی سکتے ہیں، جس سے اسپتالوں اور قومی ریکارڈ جیسے حساس نظام شدید متاثر ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بعض حملے اتنے پیچیدہ ہوتے ہیں کہ بیک اپ نظام تک کو نقصان پہنچا دیتے ہیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ یہ حملے براہ راست نہیں بلکہ مختلف نیٹ ورکس اور معاون تنظیموں کے ذریعے کیے جاتے ہیں، جبکہ خفیہ انٹرنیٹ پلیٹ فارمز پر ہیکنگ کے اوزار خرید و فروخت کیے جاتے ہیں اور ڈیجیٹل کرنسی کے ذریعے لین دین ہوتا ہے۔
سائبر جنگ کا ایک پہلو نوجوانوں کو نشانہ بنانا بھی ہے، جہاں آن لائن کھیلوں کے ذریعے گمراہ کن مواد پھیلا کر انتہا پسند نظریات کو فروغ دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ حکام کے مطابق اس خطرے سے نمٹنے کے لیے آگاہی اور قومی اقدار کو مضبوط بنانا انتہائی ضروری ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ یو اے ای جدید دفاعی نظام کے ذریعے ان حملوں کا مؤثر مقابلہ کر رہا ہے اور عالمی سطح پر سائبر سیکیورٹی میں نمایاں مقام رکھتا ہے۔
یہ صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ سائبر خطرات بھی تیزی سے بڑھ رہے ہیں، جن سے نمٹنے کے لیے مسلسل نگرانی اور مضبوط حکمت عملی ناگزیر ہے۔







