متحدہ عرب امارات

2030 تک مشرقِ وسطیٰ سے بیرونِ ملک سفر پر اخراجات 60 ارب ڈالر سے تجاوز کرنے کا امکان

 

دبئی: مشرقِ وسطیٰ کے مسافر بیرونِ ملک سفر پر تیزی سے زیادہ خرچ کر رہے ہیں اور یہ رفتار آنے والے برسوں میں مزید بڑھنے کی توقع ہے۔ خطے سے آؤٹ باؤنڈ ٹریول پر اخراجات میں مسلسل اضافہ متوقع ہے اور اندازہ ہے کہ 2030 تک یہ 60 ارب ڈالر سے تجاوز کر جائیں گے، جس کے اثرات عالمی سطح پر ایئرلائن نیٹ ورکس، ہوٹل سرمایہ کاری اور سیاحتی مارکیٹنگ حکمتِ عملیوں پر واضح طور پر مرتب ہوں گے۔

یہ بڑھتی ہوئی طلب عربین ٹریول مارکیٹ 2026 میں بھی نمایاں طور پر دیکھی جا رہی ہے، جہاں بین الاقوامی نمائش کنندگان مشرقِ وسطیٰ کے تیزی سے بڑھتے اور متنوع مسافر طبقے تک رسائی کے لیے اپنی موجودگی میں اضافہ کر رہے ہیں۔ غیر ملکی شرکا کے لیے مختص نمائش کا رقبہ سال بہ سال 10 فیصد بڑھ رہا ہے، جو اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ عالمی سیاحتی مقامات اب مشرقِ وسطیٰ کو محض موسمی مارکیٹ نہیں بلکہ ایک بنیادی سورس مارکیٹ کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔

عالمی دلچسپی میں تیزی

افریقہ اور ایشیا کے ممالک اس رجحان میں سب سے آگے ہیں۔ 2024 سے 2026 کے درمیان افریقی نمائش کنندگان کی نمائش گاہوں میں اوسط سالانہ بنیاد پر تقریباً 32 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ ایشیا میں اسی مدت کے دوران تقریباً 14 فیصد سالانہ ترقی دیکھی گئی۔ یورپ، امریکا اور مشرقِ وسطیٰ کے ممالک میں بھی مسلسل اضافہ ہوا ہے، جو اس بات کی علامت ہے کہ عالمی سیاحتی مقامات مشرقِ وسطیٰ کے مسافروں کو متوجہ کرنے کے لیے نئی حکمتِ عملیاں اپنا رہے ہیں۔

عربین ٹریول مارکیٹ کی نمائش ڈائریکٹر، ڈینیئل کرٹس کے مطابق عالمی سیاحت میں رونما ہونے والی تبدیلیوں کے ساتھ بین الاقوامی شمولیت میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ افریقہ میں انفرااسٹرکچر اور پائیدار لگژری منصوبوں سے لے کر ایشیا میں فضائی رابطوں اور ٹریول ٹیکنالوجی کے پھیلاؤ تک، مشرقِ وسطیٰ کی مارکیٹ میں غیر معمولی عالمی دلچسپی دیکھی جا رہی ہے۔

خلیجی مسافروں کے لیے سیاحتی مقامات کی نئی حکمتِ عملی

مصر ان ممالک میں شامل ہے جو اس رجحان سے سب سے زیادہ فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ اندازہ ہے کہ 2030 تک مشرقِ وسطیٰ سے مصر جانے والے تفریحی سفر کی راتوں میں 21 فیصد اضافہ ہوگا۔ اس اضافے کو گرینڈ ایجپشن میوزیم، نیو العلمین سٹی اور بحیرۂ احمر کے بڑے سیاحتی منصوبوں جیسے میگا پراجیکٹس کی حمایت حاصل ہے۔ سیاحتی حکام اور ہوٹل گروپس عربین ٹریول مارکیٹ 2026 میں مصر کو خلیجی خاندانوں اور طویل قیام کرنے والے مسافروں کے لیے ایک وسیع گنجائش اور تجربات پر مبنی منزل کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔

مراکش بھی اسی طرز کی حکمتِ عملی اپنا رہا ہے۔ ریلوے نیٹ ورک کی توسیع، فضائی راستوں میں تیز رفتار اضافہ اور 2030 فٹبال ورلڈ کپ کی تیاریوں نے ملک کے سیاحتی شعبے کو نئی شکل دی ہے۔ عربین ٹریول مارکیٹ میں مراکش کے نمائندے شراکت داروں اور سرمایہ کاروں کو متوجہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ دہائی کے اختتام تک سالانہ 2 کروڑ 60 لاکھ سیاحوں کے ہدف اور ہوٹلوں کی گنجائش میں بڑے اضافے کو حاصل کیا جا سکے۔

ترکی بھی خلیجی مسافروں کے لیے ایک مضبوط کشش رکھتا ہے اور 2025 میں مشرقِ وسطیٰ سے جانے والی سیاحتی راتوں میں اس کا حصہ 8 فیصد رہا۔ عربین ٹریول مارکیٹ میں ترکی کی موجودگی اس عزم کی عکاسی کرتی ہے کہ 2030 تک مشرقِ وسطیٰ میں بین الاقوامی تفریحی سیاحت کے لیے اس کے کردار کو تقریباً دوگنا کیا جائے۔

ایشیا کی واپسی نمایاں

چین کی عربین ٹریول مارکیٹ میں واپسی بھی ایک اہم پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔ چین سے مشرقِ وسطیٰ جانے والے مسافروں کی تعداد میں دوبارہ اضافہ ہو رہا ہے، جس کی وجہ فضائی روابط میں توسیع اور ویزا فری انتظامات کا پھیلتا ہوا نیٹ ورک ہے، جو اب خلیجی ممالک سمیت 76 ممالک تک پہنچ چکا ہے۔ چینی سیاحتی ادارے اور ثقافتی تنظیمیں خلیجی شراکت داروں کے ساتھ روابط بحال کرنے اور دبی ہوئی طلب سے فائدہ اٹھانے کے لیے اس پلیٹ فارم کا استعمال کر رہی ہیں۔

عربین ٹریول مارکیٹ 2026 میں ٹریول ٹیکنالوجی، الٹرا لگژری سیاحت اور نئے خریدار طبقات کو بھی نمایاں کیا جائے گا، جو مستقبل کی طلب کی سمت متعین کر رہے ہیں۔ 270 سے زائد عالمی مقامات سے دبئی کے براہِ راست فضائی رابطوں کے ساتھ، یہ ایونٹ شہر کے اس کردار کو مزید مضبوط کرتا ہے جہاں مشرقِ وسطیٰ کی بڑھتی ہوئی سفری طلب عالمی سیاحتی رسد سے ملتی ہے۔

 

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button