
خلیج اردو
متحدہ عرب امارات کے معروف سیاسی مبصر اور سیاسیات کے ریٹائرڈ پروفیسر عبد الخالق عبداللہ نے کہا ہے کہ زیادہ سے زیادہ اماراتی نوجوانوں کو سیاست کے میدان میں آنا چاہیے اور سیاسی مکالمے میں بھرپور حصہ لینا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کو تحریری یا ویڈیو، کسی بھی پلیٹ فارم پر سیاسی گفتگو میں نمایاں موجودگی اختیار کرنی چاہیے۔ وہ دبئی میں ون بلین فالوورز سمٹ کے دوران ایک پینل سیشن سے خطاب کر رہے تھے۔
عبدالخالق عبداللہ کا کہنا تھا کہ وہ چاہتے ہیں کہ 10، 20، 30 نہیں بلکہ 100 تک اماراتی نوجوان سیاسی تبصروں کے ذریعے اپنی رائے کا اظہار کریں، کیونکہ آج یو اے ای کو آن لائن دنیا میں شدید مزاحمت کا سامنا ہے اور امارات کے مؤقف کو سب سے بہتر اماراتی نوجوان ہی پیش کر سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سیاست صرف حکومت تک محدود نہیں بلکہ کھیل، خوراک اور ماحول سمیت زندگی کے تمام شعبوں میں اثر انداز ہوتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ جو لوگ سیاست کو نہیں سمجھتے وہ دراصل دنیا کے بدلتے حالات سے ناواقف رہ جاتے ہیں، کیونکہ آج دنیا کی سمت کا تعین سیاست ہی کر رہی ہے۔ گفتگو کے دوران انہوں نے نوجوان لکھاریوں کو مشورہ دیا کہ اپنی تحریر میں “تیکھے یا مصالحہ دار لہجے” کا استعمال کریں، کیونکہ یہی انداز تحریر کو مؤثر بناتا ہے اور قاری کے جذبات کو جھنجھوڑتا ہے۔
عبدالخالق عبداللہ نے یہ بھی کہا کہ سیاست میں اختلاف رائے ہمیشہ رہتا ہے اور سوشل میڈیا پر بعض اوقات تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے، تاہم اس تنقید سے گھبرا کر پیچھے نہیں ہٹنا چاہیے بلکہ اپنے مؤقف پر ڈٹے رہنا چاہیے، کیونکہ سیاسی اظہار رائے ایک مضبوط سماجی ذمہ داری بھی ہے۔







