
خلیج اردو
اسلام آباد: ایران نے امریکہ کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی اور اندرونی احتجاج کے دوران اپنی فضائی حدود کو تقریباً پانچ گھنٹے کے لیے بند کر دیا۔ اس دوران فضائی حدود صرف خصوصی اجازت نامے والے پروازوں کے لیے کھلی رہیں۔
فلائٹراڈار24 کے مطابق، ایران کی فضائی حدود بند ہونے کے وقت کئی پروازیں ملک کے گرد سے گزر رہی تھیں۔ روس کی ایئرفلوٹ کی ایک پرواز تہران جانے کے بعد ماسکو واپس لوٹ گئی، جبکہ بھارت کی بڑی ایئرلائنز انڈیگو اور ایئر انڈیا نے متبادل راستے استعمال کیے، جس سے پروازوں میں تاخیر یا منسوخی کے امکانات تھے۔
فضائی حدود کی بندش خلیج کے راستوں کو بھی متاثر کر سکتی ہے کیونکہ اکثر پروازیں ایران کے فضائی علاقے سے گزرتی ہیں، جس سے پرواز کے وقت میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
یاد رہے کہ NOTAM یعنی نوٹس ٹو ایئر میشنز کے ذریعے پائلٹس اور ایئرلائنز کو فضائی حدود میں تبدیلیوں سے آگاہ کیا جاتا ہے۔ فضائی حدود بند ہونے کی صورت میں ایئرلائنز مسافروں کی حفاظت اور بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کے لیے خطرناک اور محدود علاقوں سے پرواز نہیں کرتیں۔
ایران کی فضائی حدود کی یہ بندش امریکی تنصیبات پر ممکنہ حملے کے خدشات اور ملک میں جاری سب سے بڑے احتجاج کے پیش نظر کی گئی تھی۔







