
خلیج اردو
متحدہ عرب امارات کی جانب سے ذاتی قرضوں کے لیے کم از کم 5 ہزار درہم تنخواہ کی شرط ختم کیے جانے کے باوجود ملک کی پوری افرادی قوت اس سہولت کی اہل نہیں ہوگی۔ یو اے ای بینکس فیڈریشن کے چیئرمین عبدالعزیز عبداللہ الغریر نے اس بات کی وضاحت کی کہ اگرچہ مرکزی بینک نے کم از کم تنخواہ کی طویل عرصے سے قائم شرط ختم کر کے کم آمدنی والے لاکھوں افراد کے لیے کریڈٹ تک رسائی بڑھا دی ہے، تاہم بینک ہر درخواست دہندہ کی مالی حیثیت دیکھ کر فیصلہ کریں گے۔ ان کے مطابق یہ اقدام مثبت ہے اور اس کا مقصد مالیاتی شمولیت کو فروغ دینا ہے، لیکن تمام کم آمدنی والے ملازمین کے لیے قرض فراہم کرنا ممکن نہیں ہوگا کیونکہ بلیو کالر طبقے میں بینکوں کے لیے خطرات بڑھ جاتے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ "جو ڈرائیور 3 سے 4 ہزار درہم کماتا ہے، وہ کس قدر قرض برداشت کر سکتا ہے؟ کم تنخواہ والے پیشے زیادہ غیر مستحکم ہوتے ہیں، اس لیے بینکوں کو زیادہ جانچ پڑتال کرنا ہوگی”۔
الغریر نے کہا کہ اگر کسی مزدور یا کسان کی آمدنی کم ہے اور وہ ملازمت کھو دے تو بینک کے لیے قرض کی واپسی کا خطرہ بڑھ جاتا ہے، اسی لیے اس طبقے کے لیے درخواست کی منظوری سے قبل زیادہ احتیاط برتی جائے گی۔ ایمریٹس اسلامک کے ڈپٹی سی ای او محمد کامران واجد کے مطابق اس فیصلے سے بینکوں کو ان افراد تک رسائی ملے گی جو پہلے بینکنگ نظام سے باہر تھے، اور اس سے وسیع آبادی بینکنگ کے دائرے میں آئے گی جس سے بینکوں کا خطرہ بھی مزید تقسیم ہو جائے گا۔






