
خلیج اردو
یو اے ای میں رمضان کا مہینہ ہمیشہ سے مختلف قومیتوں اور مذاہب کے لوگوں کو اکٹھا کرتا آیا ہے تاکہ وہ روزہ رکھنے والوں کی حمایت کر سکیں۔ اس سال دبئی میں کچھ طلبہ نے یہ حمایت ایک قدم آگے بڑھا کر اپنے مسلم دوستوں کے لیے افطار کے اہتمام کیے اور خود بھی ان کے ساتھ روزہ رکھنے کا فیصلہ کیا۔
چودہ سالہ ویتنامی نژاد طالب علم، لام ہُوِین، نے پچھلے ہفتے پہلی بار اپنے گھر افطار پارٹی کی میزبانی کی۔ لام نے بتایا، “میں ہمیشہ اپنے دوستوں کو مدعو کرتا تھا، لیکن اس مہینے انہوں نے کہا کہ رمضان کی وجہ سے آ نہیں سکتے۔ تب میں نے سوچا، کیوں نہ ان کے لیے افطار کا اہتمام کیا جائے؟ اسی خیال سے یہ منصوبہ شروع ہوا۔”
لام نے اپنے دوستوں کے پسندیدہ کھانے کے لیے فو (Pho) بنایا، جو ویتنامی کھانے کا خاص سوپ ہے، جس میں خوشبودار شوربہ، تازہ سبزیاں، اور مختلف پروٹین شامل ہوتا ہے۔ ان کے دوست عمر مرچنٹ نے بتایا کہ لام نے پوچھا کہ روزہ کھولنے کے لیے کچھ خاص تیار کیا جائے، اور انہوں نے کہا کہ ہم ہمیشہ کھجور سے افطار شروع کرتے ہیں۔
اسی طرح، 18 سالہ روہن نہالانی نے بھی پہلی بار روزہ رکھنے کا ارادہ کیا اور اپنے دوست حمزہ کے گھر افطار میں شریک ہوئے۔ روہن نے بتایا، “پچھلے سال میں نے کوشش کی تھی لیکن پورا روزہ نہیں رکھا۔ اس بار چونکہ ہم سب گروپ میں روزہ رکھ رہے ہیں، میں اس کو مکمل کرنا چاہتا ہوں۔”
یہ دوست کم از کم سات سال سے ایک ساتھ ہیں اور اس رمضان کا مہینہ ان کے لیے خاص ہے کیونکہ جولائی میں وہ ہائی اسکول سے گریجویٹ ہوں گے اور دنیا بھر کی مختلف یونیورسٹیوں میں جائیں گے۔ روہن نے کہا، “اس سال افطار ایک یادگار تجربہ ہوگا، جو ہم سب کے لیے رشتہ مضبوط کرنے کا موقع فراہم کرے گا۔







