
خلیج اردو
دبئی: متحدہ عرب امارات میں کئی خاندان اس وقت شدید ذہنی دباؤ اور دکھ کا شکار ہیں جب انہیں معلوم ہوا کہ ان کے مرحوم عزیزوں کی تصاویر سوشل میڈیا پر بغیر اجازت شیئر کی جا رہی ہیں۔ امارات الیوم کی رپورٹس کے مطابق حادثاتی مناظر، خون آلود جگہیں، ٹوٹا پھوٹا سامان اور بعض اوقات آخری لمحات کی تصاویر واٹس ایپ اور دیگر پلیٹ فارمز پر گردش کرتی رہیں، یہاں تک کہ کچھ خاندانوں کو مکمل اطلاع بھی نہیں ملی تھی۔
ایک متاثرہ والدہ نے بتایا کہ ان کے بچے کے حادثے کی تکلیف دہ تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل ہوئیں، جس سے ان کے غم میں مزید اضافہ ہوا۔ قانونی ماہرین کے مطابق یہ عمل نہ صرف اخلاقی طور پر غلط ہے بلکہ سرکاری تحقیقات میں بھی رکاوٹ بنتا ہے اور خاندانوں کو شدید صدمے سے دوچار کرتا ہے۔
قانونی اور نفسیاتی ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ یو اے ای میں کسی متوفی، زخمی فرد یا سوگوار خاندان کی تصاویر شیئر کرنا قانونی جرم ہے، جس پر قید، بھاری جرمانے اور دیگر سزائیں دی جا سکتی ہیں۔ حالیہ عرصے میں جنازوں، قبروں، حادثات اور اسپتالوں کی تصاویر بغیر اجازت آن لائن پھیلانے کے بڑھتے ہوئے واقعات نے اس مسئلے کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔
قانونی پہلو
قانونی ماہر ڈیانا حمادے کے مطابق کسی مرحوم کی تصویر یا ویڈیو بغیر اجازت پوسٹ کرنا سائبر کرائم قانون 2021 کی صریح خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ قانون نہ صرف عوام بلکہ سوگوار خاندانوں کو جذباتی نقصان، خوف اور ذہنی اذیت سے بچانے کے لیے بنایا گیا ہے۔ مرنے والے کی رضامندی ممکن نہ ہونے کے باعث، قریبی عزیزوں کی اجازت لازمی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ حادثے، اسپتال یا تدفین کے مناظر کی تصاویر عام طور پر تکلیف دہ اور خوف پیدا کرنے والی ہوتی ہیں، جن کی اشاعت معاشرتی استحکام کو نقصان پہنچانے کے ساتھ خاندان کی حرمت پامال کرتی ہے۔ اس جرم پر 1 لاکھ 50 ہزار سے 5 لاکھ درہم تک جرمانہ اور قید کی سزا بھی ہو سکتی ہے، جبکہ غیر ملکیوں کے لیے ڈی پورٹیشن کا خطرہ بھی موجود ہے۔
نفسیاتی اثرات
نفسیاتی ماہر ڈاکٹر نشوی طنطاوی کے مطابق ایسی تصاویر خاندانوں کے لیے شدید ذہنی صدمے کا باعث بنتی ہیں، خصوصاً بچوں کے لیے۔ بہت سے اہل خانہ حادثے کی تفصیلات سننے سے بھی گریز کرتے ہیں، جب کہ تصاویر اور ویڈیوز ان کے ذہن میں واقعے کی خوفناک یادوں کو بار بار تازہ کر دیتی ہیں۔ ایسے مناظر نیند کی خرابی، فلیش بیکس، ڈراؤنے خواب اور جذباتی بے ترتیبی کا سبب بنتے ہیں۔
بچوں میں تو یہ اثرات اور بھی شدید ہو سکتے ہیں، جن میں خوف، چڑچڑاہٹ، خاموشی، بھوک کی کمی، توجہ کی کمی اور رویوں میں پسپائی جیسے مسائل شامل ہیں۔ گھروں کا افسردہ ماحول بھی بچوں کے ذہنی استحکام پر اثر انداز ہوتا ہے۔
مزید قانونی وضاحت
قانونی مشیر حسن الہائس کے مطابق جنازے، حادثاتی جگہیں، تدفین یا سوگوار خاندانوں کی تصاویر لینا یا شیئر کرنا ذاتی رازداری کی خلاف ورزی ہے اور معاشرتی اقدار کے بھی منافی ہے۔ سائبر کرائم قانون کی آرٹیکل 44(4) کے تحت ایسے عمل پر کم از کم چھ ماہ قید اور 1 لاکھ 50 ہزار درہم سے زائد جرمانہ مقرر ہے۔
آرٹیکل 431 کے تحت بغیر اجازت کسی کی نجی جگہ پر تصویر لینا جرم ہے، جبکہ کاپی رائٹ قانون کی آرٹیکل 43 بھی کسی شخص کی تصویر کو عوامی طور پر شائع کرنے سے پہلے اجازت لازمی قرار دیتی ہے۔ غلط یا غیر تصدیق شدہ تصاویر پھیلانا مزید سخت جرائم میں شامل ہے، جو کم از کم ایک سال قید اور بھاری جرمانے کا موجب بن سکتا ہے۔
ماہرین نے عوام سے اپیل کی ہے کہ سوشل میڈیا پر چند منٹ کے "انگیجمنٹ” کے لیے کسی خاندان کے درد، رازداری اور حرمت قربان نہ کریں۔ ان قوانین کا مقصد معاشرے کو محفوظ، باوقار اور مستحکم رکھنا ہے۔







