متحدہ عرب امارات

جیل نے میری زندگی بچائی‘: یو اے ای میں مقیم انفلوئنسر کا پہلا رمضان

خلیج اردو
متحدہ عرب امارات میں مقیم کویتی سوشل میڈیا انفلوئنسر Rawan Bin Hussain نے چھ ماہ قید مکمل کرنے کے بعد اپنے پہلے رمضان المبارک کے آغاز پر کہا ہے کہ جیل کا تجربہ ان کی زندگی کا سب سے بڑا موڑ ثابت ہوا۔

شارجہ میں 21 جنوری 2026 کو جاری ایک انسٹاگرام پوسٹ میں 29 سالہ انفلوئنسر نے گزشتہ سال کو اپنی زندگی کا مشکل ترین وقت قرار دیتے ہوئے کہا، "نومبر 2024 میں مجھے خودکشی کی کوشش کے بعد آئی سی یو میں داخل کیا گیا، جب دنیا سمجھ رہی تھی کہ میرے پاس سب کچھ ہے لیکن اندر سے میں ٹوٹ چکی تھی۔”

انہوں نے اپنی والدہ کی وفات اور طلاق کے بعد پیش آنے والی ذہنی مشکلات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ غم سے نمٹنے کے بجائے غلط راستوں پر چل پڑیں۔

Rawan Bin Hussain نے لکھا، "میں نے اپنے احساسات کو دبانے کیلئے غلط لوگوں کا ساتھ اختیار کیا، ضرورت سے زیادہ ورزش کی اور خود کو کام میں مصروف رکھا تاکہ حقیقت کا سامنا نہ کرنا پڑے۔”

اپنی پوسٹ کے اختتام پر انہوں نے کہا، "جیل نے میری زندگی بچائی کیونکہ مجھے احساس ہوگیا تھا کہ میرا انجام افسوسناک ہوسکتا تھا، مجھے زندگی میں دوبارہ اٹھنے، سیکھنے اور آگے بڑھنے کا ایک اور موقع دیا گیا ہے۔”

انہوں نے مزید بتایا کہ اس سال رمضان المبارک کے دوران وہ اپنی سابقہ روایات کے برعکس سادگی اختیار کریں گی اور اس مقدس مہینے کو مکمل طور پر عبادت کیلئے وقف کریں گی۔

رپورٹس کے مطابق گزشتہ سال انہیں متحدہ عرب امارات میں ایک قانونی مقدمے کے سلسلے میں چھ ماہ قید اور 20 ہزار درہم جرمانے کی سزا سنائی گئی تھی تاہم حالیہ بیانات میں انہوں نے کیس کی تفصیلات کے بجائے اپنی ذاتی تبدیلی اور سیکھے گئے اسباق پر توجہ دی ہے۔

یہ واقعہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ آزمائشیں بعض اوقات انسان کی زندگی میں مثبت تبدیلی کا ذریعہ بھی بن سکتی ہیں۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button