
خلیج اردو
ابوظہبی: انٹرنیٹ ماہرین کا کہنا ہے کہ بحیرہ احمر میں زیر تعمیر سمندری کیبلز میں تاخیر سے متحدہ عرب امارات میں صارفین کی انٹرنیٹ اسپیڈ پر فوری اثر نہیں پڑے گا، کیونکہ ملک کے پاس متبادل راستے اور مضبوط اندرونی انفراسٹرکچر موجود ہے۔ تاہم حالیہ واقعات نے یہ واضح کر دیا ہے کہ جدہ کے ساحل کے قریب پیش آنے والے بیک وقت کیبل کٹس جیسے واقعات خطے کی کمزوریوں کو تیزی سے بے نقاب کر دیتے ہیں۔
بلومبرگ کے مطابق بحیرہ احمر میں کئی نئی سمندری کیبلز سیاسی تناؤ اور سکیورٹی خدشات کے باعث اب تک مکمل نہیں ہو سکیں۔ ٹوایفریقا کیبل سسٹم، جس کی قیادت میٹا کر رہی ہے، بحیرہ احمر کے حصے میں ’’آپریشنل عوامل، ریگولیٹری معاملات اور جیو پولیٹیکل رسک‘‘ کے باعث تاخیر کا شکار ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ تاخیر مستقبل میں پیدا ہونے والے دباؤ کو جذب کرنے کے لیے درکار اضافی گنجائش کو کمزور کر دیتی ہے۔
بحیرہ احمر کو ماہرین ایک ’’نہایت نازک عالمی کنیکٹیوٹی بوتل نیک‘‘ قرار دیتے ہیں۔ ریٹن کے سی ای او ٹونی او سلمین کے مطابق 2024 میں اسی راستے پر ہونے والی کٹس سے یورپ اور ایشیا کے درمیان ڈیٹا کے بہاؤ کا تقریباً 70 فیصد متاثر ہوا تھا، اور اب ایک بار پھر وہی صورتحال جنم لے رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یو اے ای نے متنوع سمندری اور زمینی راستوں کے باعث دیگر ممالک کی نسبت بہتر طریقے سے صورتحال سنبھالی، مگر ابھی بھی خطے میں اضافی ہائی بینڈوڈتھ متبادل کی شدید کمی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ چند ماہ قبل جدہ کے قریب چار کیبلز ایک ساتھ کٹیں تو یو اے ای میں ٹریفک فوراً متاثر ہوا کیونکہ بقیہ زمینی راستے اتنی بڑی مقدار میں ڈیٹا سنبھالنے کے قابل نہیں تھے، جس کے باعث ٹریفک کو دنیا کے طویل ترین متبادل راستوں سے گزارنا پڑا۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ہائی کیپیسٹی کیبل سسٹمز کی تاخیر دراصل مستقبل کی وہ اضافی گنجائش ختم کر دیتی ہے جو ایسے ہی واقعات کے اثرات کو کم کرنے کے لیے ضروری ہوتی ہے۔
ٹونی او سلمین نے زور دیا کہ خطے کو حقیقی مزاحمتی نظام کی ضرورت ہے، یعنی متعدد آزاد راستے جن میں اتنی بینڈوڈتھ موجود ہو کہ مرمتی تاخیر کی صورت میں مہینوں تک ٹریفک سنبھال سکیں۔ آج کل مرمت کے دورانیے چھ سے نو ماہ یا اس سے بھی زیادہ ہو چکے ہیں، جس سے ریزیلینس کے ماڈل کو ازسرِنو تشکیل دینے کی ضرورت ہے۔
ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کے ماہرین کے مطابق، بحیرہ احمر میں سمندری کیبلز کی تاخیر بین الاقوامی فائنانس نیٹ ورکس کو بھی متاثر کرتی ہے۔ فسٹ ڈیجیٹل ٹرسٹ کے بانی و سی ای او ونسنٹ چاک کے مطابق یہ تاخیر ڈیجیٹل مالیاتی نظام کی کمزوریوں کو اجاگر کرتی ہے، کیونکہ انحصار تیز رفتار اور حقیقی وقت کی کنیکٹیویٹی پر ہوتا ہے۔ ان کے مطابق سست رفتاری ادائیگیوں، ٹریڈنگ، اور کراس بارڈر سیٹلمنٹ میں تاخیر کا باعث بنتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ یو اے ای نے متنوع کنیکٹیویٹی انفراسٹرکچر اور جدید مالیاتی نظام کو سہارا دینے والے ریگولیٹری فریم ورک کے ذریعے خطے کے لیے مثال قائم کی ہے، جو ان ممکنہ خطروں کو بہتر طریقے سے سنبھالنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ بحیرہ احمر میں کیبل منصوبوں کی تاخیر کے باعث خطے کی طویل المدتی ریزیلینس کا انحصار نئے متبادل راستے اور اضافی کیپیسٹی کے بروقت اضافے پر رہے گا۔ فوری طور پر یو اے ای کو کوئی بڑا نقصان متوقع نہیں، لیکن اگر تاخیر جاری رہی تو مستقبل میں خطے کی کنیکٹیویٹی مسلسل دباؤ میں رہے گی۔







