
خلیج اردو
ابوظبی: متحدہ عرب امارات نے ڈیجیٹل درہم کو باضابطہ طور پر نقد کرنسی کے مساوی قانونی حیثیت دے دی ہے۔ نئے وفاقی فرمان قانون نمبر 6 برائے 2025 کے مطابق ’’درہم‘‘ اب نوٹ، سکے اور ڈیجیٹل صورت میں متحدہ عرب امارات کی سرکاری کرنسی تصور کیا جائے گا۔ اس فیصلے سے امارات کے مرکزی بینک کو اپنی ڈیجیٹل کرنسی کے اجرا اور نگرانی کا واضح قانونی اختیار حاصل ہوگیا ہے۔
قانونی ماہر علی عواد کے مطابق مرکزی بینک کی بورڈ آف ڈائریکٹرز کی جانب سے تفصیلی ضوابط ابھی باقی ہیں جن کے تحت ڈیجیٹل درہم کے اجرا، گردش، مکمل قدر پر واپسی اور قانونی منتقلی کے طریقہ کار کا تعین کیا جائے گا۔ ضوابط کے نفاذ کے بعد کوئی بھی تاجر، مالیاتی ادارہ یا سرکاری محکمہ اشیاء یا خدمات کی ادائیگی کے لیے ڈیجیٹل درہم لینے سے انکار نہیں کر سکے گا۔
گزشتہ روز وزارتِ خزانہ اور دبئی ڈیپارٹمنٹ آف فنانس نے مرکزی بینک کے تعاون سے ڈیجیٹل درہم کے ذریعے پہلا سرکاری مالی لین دین مکمل کیا۔ یہ اقدام ڈیجیٹل ادائیگیوں کے فروغ کے لیے جاری پائلٹ منصوبے کا حصہ ہے۔
علی عواد کے مطابق چونکہ اب ڈیجیٹل درہم قانونی کرنسی تسلیم کر لیا گیا ہے، لہٰذا تنخواہوں، خردہ خریداریوں یا ترسیلات کی ادائیگی میں اس کے استعمال پر کوئی قانونی رکاوٹ باقی نہیں رہی۔ تاہم اس کے مؤثر نفاذ کے لیے بینکوں، پوائنٹ آف سیل نیٹ ورکس، اور منی ٹرانسفر پلیٹ فارمز کو ڈیجیٹل درہم کے بنیادی ڈھانچے سے منسلک کرنا ہوگا۔
مرکزی بینک کے مطابق ڈیجیٹل درہم درہم کی ڈیجیٹل شکل ہے جو روایتی مرکزی بینک کے تعاون سے فوری، محفوظ اور قابل اعتماد مالی لین دین کو ممکن بنائے گی۔ اس کے ذریعے بین الاقوامی، خردہ اور تھوک ادائیگیوں میں کم لاگت، فوری تصفیہ اور مالی شمولیت میں اضافہ ممکن ہوگا۔
ڈیجیٹل درہم ’’پروگرام ایبل‘‘ ادائیگیوں، حقیقی وقت میں تصفیے، اور بین الاقوامی منتقلیوں کی سہولت فراہم کرے گا، جس کے لیے جدید تکنیکی و ریگولیٹری نظام درکار ہوگا۔ اسے مرکزی بینک کے ریزروز کے مساوی تصور کیا جائے گا اور مالیاتی اداروں کے لیکویڈیٹی و رسک مینجمنٹ کے ڈھانچوں میں بھی تبدیلیاں لائے گا۔
مرکزی بینک نے واضح کیا ہے کہ ڈیجیٹل درہم کو مرحلہ وار متعارف کرایا جائے گا۔ اسے ’’انٹرمیڈیئٹڈ سی بی ڈی سی ماڈل‘‘ کے تحت تقسیم کیا جائے گا جس میں بینک، ایکسچینج ہاؤسز، پیمنٹ سروس فراہم کنندگان اور فِن ٹیک ادارے ’’ڈیجیٹل والٹس‘‘ فراہم کریں گے۔ تمام لین دین ایک محفوظ ’’ڈسٹری بیوٹڈ لیجر‘‘ پر ریکارڈ ہوں گے۔
یہ نیا قانونی فریم ورک 2025 کے وفاقی فرمان قانون نمبر 6 کا حصہ ہے، جس کے تحت بینکوں، انشورنس کمپنیوں اور فِن ٹیک اداروں کی ریگولیشن مرکزی بینک کے تحت متحد کی جا رہی ہے، جبکہ سنگین خلاف ورزیوں پر ایک ارب درہم تک کے جرمانے کی گنجائش بھی شامل ہے۔
امارات میں ڈیجیٹل درہم کے نفاذ سے نہ صرف ادائیگیوں کا نظام جدید ہوگا بلکہ یہ مالی شمولیت اور معاشی شفافیت کے نئے دور کا آغاز کرے گا۔







