متحدہ عرب امارات

شارجہ کے حکمران کا کلباء بیچ پر ہوٹل منصوبہ مسترد، نایاب سمندری کچھوؤں کے تحفظ کو ترجیح

خلیج اردو
شیخ ڈاکٹر سلطان بن محمد القاسمی نے کلباء بیچ پر ہوٹل تعمیر کرنے کی تجاویز مسترد کر دیں، مؤقف اختیار کیا کہ سرمایہ کاری سے بڑھ کر ماحولیات کا تحفظ اہم ہے۔ انہوں نے کہا، "جو تعمیر کرتا ہے وہ تباہ نہیں کرتا،” اور واضح کیا کہ قدرتی ورثے کا تحفظ اولین ترجیح ہے۔

Kalba Beach Khor Kalba Conservation Reserve کے قریب واقع ہے، جو ملک کے قدیم ترین مینگروو جنگلات کا مسکن اور نایاب سمندری کچھوؤں کی افزائش کا اہم مقام ہے۔ یہ ساحل شدید خطرے سے دوچار ہاکس بل کچھوے کی محفوظ افزائش گاہ کے طور پر بھی جانا جاتا ہے۔

یہ علاقہ دنیا میں صرف متحدہ عرب امارات میں پائے جانے والے نایاب عربین کالرڈ کنگ فشر پرندے کی واحد افزائش گاہ بھی ہے، جس کی وجہ سے اس کی ماحولیاتی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔

سائنسی مطالعات کے مطابق انسانی سرگرمیوں کے باعث گزشتہ دہائیوں میں کچھوؤں کی افزائش میں نمایاں کمی آئی۔ 2014 اور 2015 میں صرف ایک ایک بار گھونسلہ بنانے کے واقعات ریکارڈ کیے گئے، حالانکہ ماضی میں پانچ کلومیٹر طویل ساحل پر ہر سال افزائش ہوتی تھی۔

حکمران شارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ قدرتی وسائل عوام کی امانت ہیں اور ان کا تحفظ حکومت کی ذمہ داری ہے۔ یہ فیصلہ حالیہ ماحولیاتی اقدامات کے تسلسل میں کیا گیا، جن میں خورفکان کے القلقلی بیچ کو بین الاقوامی قدرتی محفوظ علاقے کا درجہ دینا بھی شامل ہے۔

2012 میں امیری فرمان کے تحت قائم کیا گیا خور کلباء کنزرویشن ریزرو تقریباً پانچ ہزار مربع کلومیٹر پر محیط ہے۔ ماہرین کے مطابق متحدہ عرب امارات کے پانیوں میں ہر سال تقریباً 500 مادہ ہاکس بل کچھوے انڈے دیتی ہیں، جبکہ دنیا بھر میں ان کی تعداد آٹھ ہزار سے زیادہ نہیں۔

ماحولیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ روشنی، شور اور تعمیراتی سرگرمیاں سمندری کچھوؤں کی افزائش کے لیے سنگین خطرہ بن سکتی ہیں، اسی لیے اس ساحل کا تحفظ نہایت ضروری ہے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button