
خلیج اردو
یو اے ای میں مقیم بھارتی تارکینِ وطن تیزی سے اپنے ووٹر ریکارڈ کی رجسٹریشن اور تصدیق کر رہے ہیں کیونکہ انتخابی فہرستوں کی اسپیشل انٹینسیو ریویژن (SIR) کے دوسرے مرحلے کا عمل جاری ہے۔ متعدد افراد اپنے دستاویزات بھارت میں اہل خانہ کو بھجوا رہے ہیں جبکہ کئی 9 دسمبر سے شروع ہونے والے اگلے مرحلے کا انتظار کر رہے ہیں۔ دبئی کے رہائشی ایشیم پی کے نے بتایا کہ انہوں نے آدھار کارڈ، پاسپورٹ اور ووٹر آئی ڈی کی کاپی سمیت تمام ضروری دستاویزات والدین کو بھجوا دی ہیں تاکہ اندراج بروقت مکمل ہو سکے۔
یہ عمل بھارت کے 12 ریاستوں اور یونین ٹیریٹوریز میں آئندہ انتخابات کے پیش نظر الیکشن کمیشن کی جانب سے شروع کیا گیا ہے۔ 21 برس بعد ہونے والی اس مشق کا مقصد ووٹرز کی تفصیلات کی تصدیق، جعلی اندراجات کا خاتمہ اور نئے ووٹرز کو شامل کرنا ہے۔ صرف وہی افراد آئندہ انتخابات میں ووٹ ڈال سکیں گے جن کے نام حتمی فہرست میں شامل ہوں گے۔
بھارتی سماجی کارکن منیر بریکے کے مطابق بیرون ملک مقیم بھارتیوں کیلئے یہ ایک سنہری موقع ہے کیونکہ ماضی میں ان کیلئے ووٹ ڈالنا ممکن نہیں تھا، تاہم مسلسل جدوجہد کے بعد یہ حق ملا اور اب این آر آئیز کیلئے فہرست میں شامل ہونا نہایت اہمیت رکھتا ہے۔ این آر آئی رجسٹریشن کا آغاز 2010 میں ہوا اور 2011 سے ‘اوورسیز الیکٹر’ کے طور پر اندراج ممکن بنایا گیا۔
پہلے مرحلے میں ان افراد کی تصدیق کی جا رہی ہے جو پہلے سے ووٹنگ لسٹ کا حصہ تھے، جس کیلئے ان کو فارم بذریعہ آن لائن یا بالمشافہ بھرنا ہوگا۔ پہلی فہرست 9 دسمبر کو جاری ہوگی جس کے بعد وہ افراد جو پہلے درج نہیں تھے، اپنی تفصیلات شامل کروا سکیں گے۔ این آر آئیز سمیت نئے امیدوار فارم 6A ویب پورٹل https://voters.eci.gov.in کے ذریعے جمع کرا سکتے ہیں، جس میں ریاست، ضلع، حلقہ اور کسی قریبی رشتہ دار کی تفصیلات شامل کرنا ضروری ہے۔ فارم کی تکمیل کیلئے بیرون ملک مکمل پتہ، بھارت سے باہر رہنے کی وجہ اور شناختی دستاویزات دینا لازمی ہے، جن میں آدھار کارڈ سمیت بارہ تک دستاویزات طلب کی جا سکتی ہیں۔
این آر آئی ووٹر کیلئے ضروری ہے کہ انہیں ووٹر لسٹ میں ‘اوورسیز الیکٹر’ کے طور پر درج کیا جائے۔ رہائشی ووٹر کم از کم چھ ماہ اپنے حلقے میں رہنے کی شرط پر فارم 6 کے ذریعے رجسٹر ہوتے ہیں جبکہ این آر آئی فارم 6A کے ذریعے درج کیے جاتے ہیں اور انہیں ووٹر آئی ڈی جاری نہیں ہوتی، تاہم ووٹ ڈالنے کیلئے بھارت میں پاسپورٹ دکھانا ضروری ہے۔
فہرست کا حتمی اجرا فروری 2026 میں ہوگا۔ اس دوران مختلف بھارتی سماجی تنظیمیں طریقہ کار سمجھنے میں مدد کیلئے خصوصی ڈیسک قائم کرنے کی تیاری کر رہی ہیں۔ شارجہ انڈین ایسوسی ایشن کے صدر نظام تھالنگرا نے بتایا کہ اس سلسلے میں بھارتی قونصلیٹ سے اجازت طلب کر لی گئی ہے جبکہ قونصلیٹ نے تاحال اس حوالے سے کوئی مؤقف نہیں دیا۔







