
خلیج اردو
ابوظہبی: اتحاد ریل نے اعلان کیا ہے کہ رواں سال کے آخر تک اپنے پہلے فریٹ ٹرمینل کی سولرائزیشن مکمل کر لے گا، جو مستقبل کے ٹرمینلز اور مسافر اسٹیشنز کے لیے بھی راہ ہموار کرے گا۔ اتحاد ریل کی ڈائریکٹر پبلک پالیسی و سسٹین ایبلٹی، ادھرا المنصوری نے کہا کہ یہ اقدام ملک کے نیٹ زیرو ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے لیے ایک اہم سنگ میل ہے۔
انہوں نے کہا کہ اتحاد ریل ایسے سپلائرز کے ساتھ کام کو ترجیح دیتا ہے جو پائیداری سے متعلق زیادہ آگاہی رکھتے ہیں تاکہ لاجسٹک سفر کو ابتدا سے انتہا تک بہتر پریکٹسز کے ذریعے ماحول دوست بنایا جا سکے۔
عالمی ریل کانفرنس ابوظہبی میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ اتحاد ریل نے اپنی مسافر سروس کے لیے عالمی ٹرانسپورٹ فرم کیولِس کے ساتھ معاہدہ بھی کیا ہے، جو 2026 میں شروع ہوگی۔ کانفرنس میں اتحاد ریل کے پروٹوٹائپ ٹرین، خودکار گیٹس اور ٹکٹ مشین بھی نمائش کے لیے پیش کی گئیں۔
اتحاد ریل کی جانب سے "گرین کوریڈور” کے منصوبے پر بھی کام جاری ہے جس کے تحت پٹریوں کے اردگرد سبزہ اگانے پر تحقیق ہو رہی ہے تاکہ ریت کے تیز ہواؤں کے باعث پٹریوں کو ڈھانپنے کے خطرے سے قدرتی طریقے سے بچاؤ ممکن بنایا جا سکے۔ تاہم، منصوبہ فی الحال ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ مرحلے میں ہے۔
المنصوری نے کہا کہ ریل لائن بچھانے کے دوران ہر علاقے میں مقامی حکام اور ماحولیاتی اداروں کے ساتھ تعاون کیا گیا تاکہ فطری ماحول، نباتات اور حیوانات کو نقصان نہ پہنچے۔
اعداد و شمار کے مطابق اتحاد ریل کا ہر فریٹ ٹرین 300 ٹرکوں کو سڑکوں سے ہٹا دیتی ہے، جبکہ کچھ صارفین نے ریلوے کے استعمال سے کاربن کے اخراج میں 80 فیصد تک کمی کی ہے۔ کمپنی نے اپنے صارفین کو "کاربن اوائیڈنس سرٹیفکیٹ” بھی جاری کیا ہے جس میں یہ بتایا جاتا ہے کہ انہوں نے ریل کے ذریعے کتنی CO2 اخراج سے بچت کی۔
اتحاد ریل کے مطابق 2050 تک ریلوے سیکٹر زمینی ٹرانسپورٹ کے اخراجات میں 21 فیصد تک کمی کرے گا، جو سالانہ 8.2 ملین ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ کے برابر ہوگی۔






