
خلیج اردو
دبئی: متحدہ عرب امارات میں والدین نے بچوں کو انٹرنیٹ پر موجود غیر اخلاقی اور عمر کے لحاظ سے نامناسب مواد سے بچانے کے لیے سخت حفاظتی تدابیر اپنانی شروع کر دی ہیں۔ والدین نہ صرف بچوں کے اکاؤنٹس کے پاسورڈز تک رسائی رکھتے ہیں بلکہ ان کے آن لائن سرگرمیوں کی نگرانی بھی کرتے ہیں تاکہ بچوں کو ناپسندیدہ مواد سے محفوظ رکھا جا سکے۔
اگرچہ کئی ایپس اور ویب سائٹس عمر کی تصدیق یا والدین کی اجازت طلب کرتی ہیں، لیکن بچے آسانی سے "ہاں” کا انتخاب کر کے یا جھوٹی تاریخ پیدائش درج کر کے ان رکاوٹوں کو عبور کر لیتے ہیں۔ 13 سالہ علی عبداللہ نے بتایا کہ وہ گیمز جیسے Brawl Stars اور Clash Royale ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے اپنی عمر 32 سال درج کرتا ہے تاکہ رسائی حاصل کر سکے۔
علی نے مزید کہا، "میرے تمام دوستوں کے پاس یہی ایپس ہیں، اس لیے مجھے بھی ان کی ضرورت محسوس ہوتی ہے۔” تاہم جب علی نے اپنے والدین سے ٹک ٹاک اور انسٹاگرام جیسی ایپس ڈاؤن لوڈ کرنے کی اجازت مانگی تو والدین نے انکار کر دیا، کیونکہ انہیں خدشہ تھا کہ علی حساس مواد کا شکار ہو سکتا ہے۔
اعتماد اور نگرانی کا توازن
12 سالہ بیٹی کے والد ابو ریّم نے بتایا کہ انہوں نے بچپن سے بیٹی کے ساتھ اعتماد کا رشتہ قائم کیا ہے، اور یہ سکھایا ہے کہ اگر کچھ غلط ہو تو فوراً آ کر انہیں بتائے۔ انہوں نے کہا، "بیٹی جانتی ہے کہ اگر وہ خود آ کر بات کرے گی تو ہم مل کر مسئلہ حل کریں گے، لیکن اگر مجھے بعد میں معلوم ہوا تو نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔”
ابو ریّم نے بتایا کہ ان کی بیٹی کے آئی پیڈ پر ٹک ٹاک اور یوٹیوب سمیت کئی ایپس ہیں، لیکن وہ والد کی اجازت کے بغیر کوئی بھی ایپ ڈاؤن لوڈ نہیں کرتی۔ انہوں نے تمام اکاؤنٹس کے پاسورڈز تک رسائی رکھی ہوئی ہے اور وقتاً فوقتاً سرچ ہسٹری اور واچ ہسٹری چیک کرتے ہیں۔ ٹک ٹاک پر ’کانٹینٹ رسٹرکشن‘ فیچر بھی فعال کیا گیا ہے تاکہ 18 سال سے کم عمر صارفین کیلئے غیر اخلاقی مواد بلاک کیا جا سکے۔
آگاہی اور رہنمائی کی حکمت عملی
ام کلثوم، جو چھ بچوں کی ماں ہیں، کا ماننا ہے کہ بچوں کو مکمل طور پر محروم رکھنا درست حکمت عملی نہیں ہے بلکہ انہیں صحیح اور غلط کی وضاحت کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا، "میں بچوں کے ساتھ وقت گزارتی ہوں، ان سے بات کرتی ہوں اور ہر سال آئی پیڈ استعمال کرنے کا دورانیہ بتدریج بڑھاتی ہوں تاکہ وہ ٹیکنالوجی کے عادی نہ بنیں۔”
انہوں نے ڈیوائس سیٹنگز کے ذریعے بچوں کیلئے مخصوص ایپس تک رسائی اور اسکرین ٹائم کنٹرول کرنے کی حکمت عملی اپنائی ہے۔ "میں بچوں کو سکھاتی ہوں کہ اگر کوئی چیز انہیں پریشان کرے یا عجیب لگے تو مجھ سے بات کریں تاکہ میں انہیں صحیح رہنمائی دے سکوں۔”
چار بچوں کی والدہ روضہ مصبح نے بتایا کہ وہ بچوں کے یوٹیوب ویڈیوز صرف ٹی وی پر، ڈرائنگ روم میں فیملی کی نگرانی میں چلواتی ہیں۔ انہوں نے کہا، "میں خود تعلیمی ایپس اور گیمز کا انتخاب کرتی ہوں اور بچوں کے ساتھ سیشنز میں شامل ہو کر اسکرین ٹائم کو مثبت بناتی ہوں۔ آئی پیڈ صرف محدود وقت کیلئے استعمال ہوتا ہے اور ایپس ڈاؤن لوڈ کرنے کیلئے خصوصی کوڈ صرف میرے پاس ہے۔”
اعتماد، گفتگو اور شفافیت — بچوں کی آن لائن حفاظت کا کلیدی اصول
خلیج ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق والدین اور بچوں کے درمیان اعتماد کا ماحول پیدا کرنا نہایت اہم ہے تاکہ بچے بغیر کسی خوف کے اپنی بات والدین سے شیئر کر سکیں۔ باقاعدہ گفتگو اور کھلی بات چیت بچوں کو اپنی بات کہنے کا حوصلہ دیتی ہے اور والدین کو بچوں کی آن لائن سرگرمیوں سے باخبر رہنے کا موقع فراہم کرتی ہے۔







