متحدہ عرب امارات

جلد ہی ChatGPT کے ذریعے براہِ راست UPI ادائیگیاں ممکن ہوں گی

خلیج اردو
نئی دہلی: بھارت میں صارفین اب جلد ہی صرف ChatGPT سے بات کر کے اپنی خریداری یا بلوں کی ادائیگی کر سکیں گے، کیونکہ نیشنل پیمنٹس کارپوریشن آف انڈیا (NPCI) اور معروف فِن ٹیک کمپنیوں نے ایک ایسا نظام آزمانا شروع کر دیا ہے جو صارفین کو UPI (یونائیفائیڈ پیمنٹس انٹرفیس) کے ذریعے براہِ راست چیٹ کے اندر ادائیگی کی سہولت فراہم کرے گا۔

رائٹرز کے مطابق یہ منصوبہ NPCI، ریزر پے (Razorpay) اور اوپن اے آئی (OpenAI) کے اشتراک سے تیار کیا جا رہا ہے، اور اس وقت محدود سطح پر چند منتخب صارفین اور تاجروں کے ساتھ آزمائشی مرحلے میں ہے۔

اس نظام کے تحت صارفین ChatGPT سے گفتگو کرتے ہوئے روزمرہ اشیاء کی خریداری، بجلی یا فون کے بلوں کی ادائیگی جیسی سرگرمیاں انجام دے سکیں گے۔ مثال کے طور پر اگر کوئی صارف لکھے: “میرا معمول کا BigBasket آرڈر خرید دو”، تو ChatGPT صارف کی پچھلی خریداری کے ڈیٹا کے مطابق آرڈر تیار کرے گا، تصدیق طلب کرے گا اور صارف کی منظوری کے بعد ادائیگی مکمل کر دے گا — وہ بھی بغیر کسی ایپ یا ویب پیج پر گئے۔

یہ جدید نظام UPI کے فوری ادائیگی کے بنیادی ڈھانچے، Razorpay کے محفوظ لین دین کے نظام، اور OpenAI کے چیٹ انٹرفیس پر مبنی ہے۔ صارف کی تصدیق معمول کے UPI ایپ کے ذریعے ہوگی تاکہ سیکیورٹی برقرار رہے۔

ٹیک کرنچ کے مطابق، یہ ماڈل ChatGPT کو ایک عام معاون سے بڑھا کر ایک فعال “ڈیجیٹل ایجنٹ” بنا دے گا، جو نہ صرف مصنوعات تلاش اور تجویز کر سکے گا بلکہ صارف کی اجازت سے ان کی ادائیگی بھی مکمل کرے گا۔

NPCI کے لیے یہ قدم UPI کے ارتقاء کی ایک قدرتی توسیع ہے — وہی نظام جو ماہانہ 14 ارب سے زائد ٹرانزیکشنز کو سنبھالتا ہے۔ Razorpay اس پراجیکٹ میں بینکنگ نظام اور مصنوعی ذہانت کے درمیان تکنیکی رابطہ فراہم کر رہا ہے، جب کہ OpenAI “ایجنٹک AI” ماڈلز کی عملی آزمائش میں اس شراکت کو ایک اہم سنگِ میل کے طور پر دیکھ رہا ہے۔

ابتدائی مرحلے میں Tata Digital کی ملکیت والی گروسری ایپ BigBasket شراکت دار کے طور پر شامل ہے، جہاں صارفین چیٹ کے اندر ہی اشیاء براؤز کر کے آرڈر مکمل کر سکیں گے۔

ذرائع کے مطابق اس پائلٹ پروگرام میں ابتدائی طور پر چھوٹی ادائیگیوں کی اجازت ہوگی، جس میں سخت حفاظتی پروٹوکولز اور صارف کی واضح منظوری کے مراحل شامل ہیں۔

یہ اقدام بھارت کے ڈیجیٹل مالیاتی نظام میں ایک بڑی تبدیلی کی علامت ہے، جس سے صارفین کے لیے خریداری مزید آسان، تیز اور شخصی نوعیت کی بن جائے گی۔ تاہم ماہرین نے اس کے ساتھ قانونی و پرائیویسی خدشات پر بھی توجہ دلائی ہے، بالخصوص اس پہلو پر کہ اگر کسی لین دین میں AI سے غلطی ہو تو ذمہ داری کس پر عائد ہوگی۔

اگر یہ تجربہ کامیاب ہوتا ہے تو بھارت دنیا کا پہلا ملک بن سکتا ہے جہاں مصنوعی ذہانت کے ایجنٹس عوامی ادائیگی کے نظام کے ذریعے براہِ راست ٹرانزیکشن انجام دیں گے۔

جیسا کہ ایک بھارتی فِن ٹیک بانی نے بزنس ٹوڈے سے گفتگو میں کہا: “یہ ChatGPT کو محض ایک چیٹ باٹ نہیں بلکہ آپ کا ذاتی کیشیئر بنا دے گا۔”

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button