
خلیج اردو
متحدہ عرب امارات نے خطے میں جاری کشیدگی اور فضائی حدود کی بندش کے بعد خلیجی ممالک کے ساتھ خصوصی فضائی راہداریاں قائم کر دی ہیں تاکہ پھنسے ہوئے مسافروں اور ہنگامی سفر کرنے والوں کو سہولت فراہم کی جا سکے۔
سفری ماہرین کے مطابق ان فضائی راہداریوں کے ذریعے فضائی کمپنیوں کو محدود تعداد میں پروازیں چلانے کی اجازت دی جائے گی جس سے مسافروں کے بڑھتے ہوئے دباؤ کو کم کرنے میں مدد ملے گی۔
مسافر ڈاٹ کام کے چیف آپریٹنگ آفیسر راحیش بابو کے مطابق: “فضائی راہداری کے تحت فضائی کمپنیوں کو تقریباً بیس سے تیس فیصد صلاحیت کے ساتھ پروازیں چلانے کی اجازت دی جائے گی، جس سے سیاحوں، ٹرانزٹ مسافروں اور ہنگامی سفر کرنے والوں کو وطن واپسی میں مدد ملے گی۔”
متحدہ عرب امارات نے منگل کو ایک بریفنگ میں اعلان کیا تھا کہ حالیہ علاقائی صورتحال کے بعد فضائی آمدورفت کو مرحلہ وار بحال کرتے ہوئے فی گھنٹہ تقریباً 48 پروازیں چلانے کی اجازت دی جائے گی۔
سمارٹ ٹریولز کے جنرل منیجر سفیر محمد کے مطابق اس اقدام سے اہم سفری روٹس پر پروازوں کی بحالی ممکن ہو سکے گی اور مسافروں کے جمع ہونے والے بیک لاگ کو کم کرنے میں مدد ملے گی۔
انہوں نے کہا کہ ان پروازوں کے ذریعے جلد خراب ہونے والی اشیاء کی ترسیل بھی ممکن ہو سکے گی جس سے منڈیوں میں اشیائے خورونوش کی فراہمی برقرار رکھنے میں مدد ملے گی۔
امریکی، اسرائیلی اور ایرانی جنگ کے آغاز کے بعد ہفتہ کے روز متحدہ عرب امارات نے احتیاطی اقدام کے طور پر اپنی فضائی حدود بند کر دی تھیں۔
سفری ماہرین کے مطابق چونکہ فضائی راہداری کے تحت محدود پروازیں چلائی جا رہی ہیں اس لیے ٹکٹوں کی قیمتیں بھی زیادہ رہنے کا امکان ہے۔
راحیش بابو کا کہنا تھا کہ طلب اور رسد کے اصول کے تحت ہنگامی سفر کرنے والے افراد کو مہنگے ٹکٹ خریدنے پڑ سکتے ہیں، تاہم اگر صورتحال بہتر رہی تو عید کی تعطیلات تک معمول کی پروازیں جزوی طور پر بحال ہونے کی امید ہے۔
دوسری جانب مختلف کمیونٹی تنظیمیں بھی ہنگامی سفر کرنے والوں کی مدد کے لیے آگے آئی ہیں۔ شارجہ انڈین ایسوسی ایشن کے صدر نثار تھلنگارا کے مطابق ایک کینسر کے مریض سمیت کئی افراد کو فوری علاج کے لیے بھارت روانہ ہونے میں مدد فراہم کی گئی جبکہ ہنگامی ضرورت رکھنے والے مسافروں کے لیے کم لاگت چارٹر پرواز کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔







